مہنگائی کے خلاف جرمنی اور فرانس میں مظاہرے ، کئی شہروں میں تشدد و لوٹ مار

,

   

فرینکفرٹ/پیرس، یکم نومبر (یواین آئی ) بڑھتی مہنگائی اور تعلیم کے مسائل کے خلاف جرمنی اور فرانس میں مظاہرے کئی مقامات پر پرتشدد ہوگئے ۔ جرمنی میں ہزاروں نوجوانوں کے سڑکوں پر اترنے کے بعد فرینکفرٹ اور کولون سمیت بعض بڑے شہروں میں جھڑپیں اور لوٹ مار ہوئی، جبکہ پولیس کو ہجوم پر قابو پانے واٹر کینن کا استعمال کرنا پڑا۔جرمنی میں نوجوانوں کی قیادت والی ‘جین زی ریگلٹ تحریک نے برلن، فرینکفرٹ، کولون، ہیمبرگ اور میونخ سمیت30سے زائد شہروں میں مظاہرے کئے ۔ مظاہرین نے بڑھتی مہنگائی، اسکولوں اور یونیورسٹیوں کیلئے کم فنڈنگ، ماحولیاتی مسائل اور لازمی فوجی سروس کی بحالی کے امکان پر تشویش ظاہر کی ۔ منتظمین کے مطابق ملک بھر میں تقریباً ایک لاکھ 20 ہزار افراد مظاہروں میں شریک ہوئے ۔ دن میں مظاہرہ زیادہ تر پرامن رہے ، تاہم شام کے بعد کئی شہروں میں حالات بگڑ گئے ۔فرینکفرٹ میں سب سے زیادہ ہنگامہ ہوا ، جہاں نقاب پوش گروپوں نے شہر کے مرکزی شاپنگ علاقے ‘زائل’ میں دکانوں کے شیشے توڑ دیے اور لوٹ مار کی۔ ایک ہتھیاروں کی دکان کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد پولیس نے علاقہ کو گھیرے میں لے لیا۔ تقریباً 100 افراد کو شناخت کی جانچ کیلئے حراست میں لیا گیا، جبکہ 30 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا۔ حملے کا نشانہ بننے والی دکان سے دو ہتھیار بھی برآمد کیے گئے ۔ کولون میں مارچ کے دوران آتش بازی کے بعد پولیس نے واٹر کینن کا استعمال کیا، جبکہ ہیمبرگ میں رکاوٹوں کو آگ لگانے اور ایمرجنسی اہلکاروں پر پتھر، بوتلیں اور آتش بازی کے سامان پھینکے جانے کے بعد جھڑپیں ہوئیں۔ برلن میں برانڈن برگ گیٹ کے قریب مرکزی اجتماع زیادہ تر پرامن رہا، تاہم شہر کے دیگر حصوں میں پیش آئے واقعات میں 27 پولیس اہلکار زخمی ہوئے ۔حکام کے مطابق رات کے وقت ہنگاموں کی تحقیقات جاری ہیں اور ابتدائی اشاروں سے پتہ چلا کہ تشدد میں ملوث کئی افراد دن کے پرامن مظاہروں کا حصہ نہیں تھے ۔جرمنی کے مظاہرے یورپ میں جاری احتجاج کی وسیع لہر کا حصہ ہیں۔ فرانس میں ییلو ویسٹ تحریک، طلبہ اور دیگر گروپوں نے بڑھتی مہنگائی اور اخراجات زندگی کی لاگت کے خلاف ملک گیر مظاہرے کئے ۔ یہ تحریک ستمبر کے آخر میں اسکولوں کی خراب صورتحال، اساتذہ کی کمی، تعلیمی وسائل اور یونیورسٹی داخلہ نظام میں تبدیلی کے مطالبات کے ساتھ شروع ہوئی تھی، جس کے بعد اخراجات زندگی اور معاشی دباؤ کے مسائل بھی اس میں شامل ہوگئے ۔فرانس کی وزارت داخلہ کے مطابق ہفتہ کو ملک بھر میں تقریباً تین لاکھ 20 ہزار افراد نے مظاہروں میں شرکت کی، جن میں پیرس کے 70 ہزار افراد شامل تھے ۔