میدک پولیس کی اذیت رسانی کا شکار عبدالقدیر فوت

,

   

کیا تلنگانہ پولیس اذیت رسانی میں بھی ملک میں نمبر ون ہے ؟
مسلسل پانچ دن مار پیٹ سے ہڈیاں ٹوٹ گئیں ‘ گردے ناکارہ ۔ گاندھی ہاسپٹل ایم بی ٹی کا پر احتجاج

حیدرآباد۔ 17 فبروری (سیاست نیوز) میدک پولیس کی اذیت رسانی کا شکار عبدالقدیر کی موت کے بعد گاندھی ہاسپٹل میں کشیدگی پیدا ہوگئی۔ میدک پولیس کی تحویل میں رکھ کر قدیر کو اذیت پہنچائی گئی اور پولیس کی اذیت رسانی کی تاب نہ لاکر عبدالقدیر فوت ہوگیا۔ قدیر کو حسینی علم سے میدک پولیس نے 29 جنوری کو گرفتار کیا تھا اور 5 دن تحویل میں رکھ کر اذیت پہنچائی تھی اور جیسے ہی قدیر کی صحت بگڑ گئی پولیس نے اسے چھوڑ دیا۔ قدیر کی ہڈیاں ٹوٹ گئی تھی اور تحویل میں مارپیٹ کے سبب گردے ناکارہ ہوگئے۔ اس طرح کی غیرانسانی حرکت و اذیت سے زخمی قدیر آج گاندھی ہاسپٹل میں فوت ہوگیا۔ فرینڈلی پولیس کی دعویدار تلنگانہ پولیس کی اس حرکت سے مسلم اقلیت میں بے چینی ہے۔ قدیر کی موت کا انسانی حقوق تنظیموں اور مجلس بچاؤ تحریک نے سحت نوٹ لیا۔ ایم بی ٹی کی قیادت میں آج گاندھی ہاسپٹل پر زبردست احتجاج کیا گیا۔ اس موقع پر قائد ایم بی ٹی امجداللہ خاں خالد نے احتجاج کرتے ہوئے قدیر کی موت کی سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا اور میدک ایس پی روشنی پریہ درشنی کو معطل کرکے واقعہ میں ملوث سب انسپکٹر راج شیکھر اور کانسٹیبلز پون اور پرشانت کو برخواست کرکے قتل کے مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اس خطرناک جرم میں ملوث پولیس ملازمین کو ایس پی کی جانب سے کلین چٹ دینے پر پولیس کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ قدیر کی موت کے خلاف ایم بی ٹی عدالت سے رجوع ہوگئی اور قدیر خاں کو انصاف ملنے تک ایم بی ٹی کا احتجاج جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ سیکولرالزم کی دہائی دینے والی بی آر ایس اور اس کے قائدین ایک مسلمان کی پولیس تحویل میں موت پر خاموش ہیں اور کوئی بی آر ایس قائد مدد کیلئے آگے نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ جبکہ مسلمان وزیر داخلہ رہنے کے باوجود پولیس کا مسلمانوں پر ظلم شمالی ہند کی ریاستوں کو بھی پیچھے چھوڑ گیا۔ انہوں نے کہاکہ آج تلنگانہ میں مسلمان کا خون سب سے سستا ہوگیا ہے۔ انہوں نے ایس پی میدک کی فوری معطلی کا مطالبہ کیا اور ایسی ذہنیت والے عہدیداروں کے خلاف کارروائی مطالبہ کیا۔ انہوں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ واقعہ سے بی آر ایس حکومت کی پالیسی آشکار ہوگئی اور مسلمان ان واقعات کو یاد رکھیں گے جس کا خمیازہ حکومت کو بھگتنا پڑیگا۔ امجداللہ خاں خالد نے قدیرخاں کی بیوی کو سرکاری ملازمت اور افراد خاندان کو 25 لاکھ روپئے معاوضہ کا مطالبہ کرتے ہوئے سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا اور ایس پی میدک کے خلاف سخت کارروائی پر زور دیا۔ یاد رہیکہ چند روز قبل مرحوم قدیرخاں نے اپنے ایک بیان میں میدک پولیس کی ظلم و زیادتی کا تذکرہ کیا تھا۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ اس واقعہ کا سخت نوٹ لیتے ہوئے معاملہ کی سی بی آئی تحقیقات کرواتے ہوئے مسلمانوں میں اعتماد کو بحال کرے۔ع