پارٹی اُمور میں ڈسپلن شکنی ناقابلِ برداشت ‘ کون کام کررہا ہے اور کون ایکٹنگ میں جانتی ہوں، گاندھی بھون میں جائزہ اجلاس
حیدرآباد۔/5 مارچ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ کانگریس کی انچارج میناکشی نٹراجن نے آج بھی جائزہ اجلاسوں کا سلسلہ جاری رکھا اور ریاست میں پارٹی کے استحکام کیلئے ضروری ہدایات دیں۔ میناکشی نٹراجن نے آج گاندھی بھون میں محاذی تنظیموں کے قائدین کے ساتھ جائزہ اجلاس منعقد کیا اور پھر دوپہر میں عادل آباد اور پدا پلی لوک سبھا حلقہ جات کے قائدین کے ساتھ جائزہ اجلاس منعقد کرتے ہوئے پارٹی کی تازہ صورتحال کا جائزہ لیا۔ اے آئی سی سی سکریٹریز وشواناتھن اور وشواناتھ کے علاوہ ریاستی وزیر ڈی انوسیا سیتکا اور پارلیمانی حلقوں سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی اور کونسل نے اجلاس میں شرکت کی۔ ضلع کانگریس صدور نے بھی اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے پارٹی کی موجودہ صورتحال سے واقف کرایا۔ میناکشی نٹراجن پارلیمانی حلقہ جات کی سطح پر جائزہ اجلاسوں کے ذریعہ سرکاری اسکیمات پر عمل آوری اور عوامی نمائندوں کی کارکردگی کا جائزہ لے رہی ہیں۔ انہوں نے پارٹی میں گروہ بندیوں کی مخالفت کی اور قائدین پر واضح کیا کہ ڈسپلن شکنی کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ میناکشی نٹراجن نے آج جائزہ اجلاس کے دوران بعض سخت ریمارکس کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے انداز کارکردگی سے کسی کو اختلاف ہو تو وہ ہائی کمان سے شکایت کیلئے آزاد ہیں۔ میناکشی نٹراجن نے کہا کہ وہ ڈسپلن کے معاملہ میں انتہائی سخت ہیں اور اس سلسلہ میں کوئی مفاہمت نہیں کی جائے گی۔ اگر کوئی میرے خلاف ہائی کمان سے شکایت کرتا ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ میناکشی نٹراجن نے کہا کہ حلقہ جات کے انچارجس انہیں بھلے ہی رپورٹ پیش کریں یا نہ کریں وہ ہر ایک کے کام سے بخوبی واقف ہیں، کون کام کررہا ہے اور کون ایکٹنگ کررہا ہے مجھے اس کی اطلاع بدستور مل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام قائدین کو پارٹی کے استحکام اور حکومت کی اسکیمات کو عوام تک پہنچانے کیلئے کام کرنا چاہیئے۔ میناکشی نٹراجن نے پارٹی کے داخلی اُمور کے بارے میں کھلے عام بیان بازی کے خلاف سخت انتباہ دیا اور کہاکہ اگر کسی کو شکایت ہے تو وہ پارٹی فورم میں اظہار کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ کارکنوں کی سماعت کیلئے ہمیشہ تیاررہیں گی۔ میناکشی نٹراجن نے کہا کہ جو کوئی پارٹی حدود سے تجاوز کرے گا اس کے خلاف کارروائی یقینی رہے گی۔ انہوں نے بارہا جائزہ اجلاسوں میں اس بات کو دہرایا کہ اگر میرے کام سے اختلاف ہو تو آپ راہول گاندھی اور سونیا گاندھی سے شکایت کیلئے آزاد ہیں۔ پارٹی میں ہر مسئلہ پر مباحث کئے جاسکتے ہیں لیکن پارٹی کے داخلی اُمور کو برسر عام نہ کیا جائے۔ واضح رہے کہ میناکشی نٹراجن کے اندازِ کارکردگی سے سینئر قائدین خود بھی حیرت میں ہیں۔1