’’ میری کٹی ہوئی ٹانگجنت میں ہے‘‘

   

دوحہ : میری کٹی ہوئی ٹانگ میرے خاندان کی طرح جنت میں ہے۔یہ کہنا تھا غزہ سے علاج کیلئے قطرمنتقل ہونے والی6سالہ مریم کا جو فروری میں غزہ میں اپنے گھر پر ایک اسرائیلی حملے میں اپنے ماں باپ، بھائی اور اپنی دائیں ٹانگ کھو چکی ہیں۔اپنی نئی وہیل چیئر پر رنگ برنگے پھولوں کے پرنٹ کی اسکرٹ پہنے دوحہ کے ثمامہ کامپلکس کے ارد گرد گھومتی ہوئی اور کسی بھی جاننے والے کو دیکھ کر مسکراتی ہوئی مریم جس کی کٹی ہوئی ٹانگ سے اوپر کا حصہ اسکرٹ سے جھانکتا ہوا نظر آرہا ہے،عزم کی ایک تصویر دکھائی دیتی ہیں۔وہ اس کامپلکس میں موجود لگ بھگ ان دو ہزار بچوں میں شامل ہیں جو غزہ کے جنگی میدانوں سے دور ایک نئی زندگی میں خود کو ڈھالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔مریم ان خوش قسمت لوگوں میں شامل تھیں جنہیں مئی کے شروع میں اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے غزہ سے رفح کراسنگ کی بندش سے قبل علاج کیلئے مصر کے راستے نکالا گیا تھا۔