سدی پیٹ۔ 25 جولائی ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) سدی پیٹ اسپیشل گریڈ میونسپلٹی میں کیا صرف ایک انجینئر ہے؟ کیا صرف ایک سینیٹری انسپکٹر ہے؟ 4 اے ای کی ریگولر پوسٹوں کے لیے صرف ایک اے ای ہونے سے سدی پیٹ میونسپلٹی کے کام کیسے چلیں گے؟ اس پر سابق وزیر ایم ایل اے ہریش راؤ نے پبلک ہیلتھ ای این سی سے فون پر بات کی۔ سدی پیٹ میونسپلٹی کے ترقیاتی کاموں پر ہریش راؤ نے اپنے کیمپ آفس میں میونسپل حکام کے ساتھ جائزہ اجلاس کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ 4 اے ای کی جگہ صرف ایک اے ای ہونے سے کام کیسے ہوں گے، اس لیے فوراً اے ای تعینات کیے جائیں، اور پبلک ہیلتھ ای این سی سے فون پر بات کی۔ اسی طرح باقی رہ جانے والے انڈر گراؤنڈ ڈرینج کے کام فوراً شروع کیے جائیں، اور اس سے متعلق ٹینڈر کا عمل جلد مکمل کیا جائے۔ سدی پیٹ میں تین قسم کے کچرے کی علیحدہ جمع آوری ہوتی ہے اور یہ ریاست میں مثال بن چکا ہے، ایسے سدی پیٹ میں صرف ایک سینیٹری انسپکٹر کا ہونا سمجھ سے باہر ہے۔انھوں نے میونسپلٹی میں جاری ترقیاتی کاموں کی رفتار بڑھانے کی خواہش کی ۔سدی پیٹ میں تعمیر کیے جانے والے چار پانی کے ٹینکوں کی تعمیر جلد مکمل کر کے عوام کے لیے کھولا جائے۔ اور زیر التواء متعدد بی ٹی روڈز اور سی روڈز فوراً مکمل کیے جائیں۔ برسات کے موسم کے پیشِ نظر صفائی ستھرائی کا نظام بہتر ہو، سڑکوں پر کچرا نہ پھینکا جائے۔ اس کیلئے عوام میں شعور بیدار کیا جائے۔عوام کو میونسپلٹی کی خدمات فراہم کرنے میں شفافیت ہو، اور حکام کے باہمی تعاون سے عوامی خدمات فراہم کی جائیں۔اس جائزہ اجلاس میں میونسپل کمشنر، منیجرز، ڈی ای، اے ای، سینیٹری انسپکٹر و دیگر نے شرکت کی۔