میڈیا کو چند منٹ کیلئے قدیم سیکریٹریٹ کی ’ سیر ‘ کروائی گئی

   

مسمار مساجد و مندر کے علاقہ میں لیجانے سے گریز ۔ محض ضابطہ کی تکمیل پر توجہ
حیدرآباد : سکریٹریٹ کی انہدامی کارروائی کے میڈیا کوریج پر پابندی کے خلاف ہائی کورٹ میں مقدمہ سے پریشان نے اچانک صحافیوں کو قدیم سکریٹریٹ کا معائنہ کروانے کا اعلان کیا۔ پروگرام کے مطابق الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کے صحافی اِس اُمید کے ساتھ پہونچے کہ انھیں منہدم عمارتوں کے معائنہ کی اجازت ملے گی لیکن حکومت نے محض ضابطہ کی تکمیل کرنے خصوصی بسوں کے ذریعہ صحافیوں کی سیر کا انتظام کیا۔ جس طرح نمائش اور زو میں بسوں کے ذریعہ تفریح کروائی جاتی ہے، صحافیوں کو خصوصی بسوں کے ذریعہ چند منٹوں کیلئے سکریٹریٹ کے مخصوص حصہ کی سیر کرائی گئی۔ انھیں ان علاقوں میں نہیں لے جایا گیا جہاں تین عبادت گاہوں کو منہدم کیا گیا ۔ آندھراپردیش کے کنٹرول میں رہی عمارتوں کی انہدامی کارروائی کا بسوں کے اندر سے صحافیوں کو مشاہدہ کرایا گیا۔ حکومت کے اعلان کے مطابق کمشنر پولیس انجنی کمار دورہ کی نگرانی کرنے والے تھے لیکن وہ موجود نہیں رہے۔ صحافیوں کو اسکولی بچوں کی طرح خصوصی بسوں میں کچھ دیر کیلئے گھمایا گیااور تسلی دے دی گئی کہ سکریٹریٹ کا دورہ ہوچکا ہے۔ یہ کارروائی صاف طور پر ہائی کورٹ کے فیصلہ سے بچنے کی کوشش ہے کیوں کہ عدالت میں میڈیا کوریج پر پابندی کی مخالفت کی تھی۔ تاہم پولیس کی جانب سے آج میڈیا کو سکریٹریٹ میں جاری انہدامی کارروائی کا موقع فراہم کیا اور اس دورے میں کوویڈ ۔ 19 کی شرائط کا پاس و لحاظ نہیں رکھا گیا۔ میڈیا نمائندوں کو بلدیہ کی بسوں میں بھر کر لے جایا گیا جو کسی مقام پر احتجاج کے دوران گرفتاریوں کا منظر پیش کررہا تھا جہاں احتجاجیوں کی گرفتاری کے بعد انھیں دوسرے مقامات پر منتقل کیا جاتا ہے۔ سکریٹریٹ میں موجودہ تقریباً تمام بلاکس ڈھادیئے گئے۔ سوائے چند کے جنھیں امکان ہے کہ اندرون دو یوم مکمل طور پر ڈھادیا جائیگا۔ ملبہ کی منتقلی کیلئے درجنوں بڑے ٹپرس کا استعمال کیا جارہا ہے اور بتایا گیا کہ 24 گھنٹے کارروائی جاری ہے۔