میں نے قواعد کے مطابق لوک سبھا الیکشن میں حصہ لیا تھا: ڈی ناگیندر

   

بی آر ایس قائدین کو انحراف پر تبصرہ کا کوئی اخلاقی حق نہیں، اسپیکر کا فیصلہ قبول کروں گا
حیدرآباد۔/10ستمبر، ( سیاست نیوز) بی آر ایس سے کانگریس میں شمولیت اختیار کرنے والے خیریت آباد کے رکن اسمبلی ڈی ناگیندر نے کہا کہ انحراف کے بارے میں بی آر ایس قائدین کو تبصرہ کا کوئی اخلاقی حق نہیں پہنچتا۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ڈی ناگیندر نے سوال کیا کہ اگر بی آر ایس دیگر پارٹیوں کے ارکان کے انحراف کی حوصلہ افزائی کرے تو درست جبکہ اگر کانگریس یہی کام کرتی ہے تو غلط کیسے ہوگا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ قواعد کے مطابق انہوں نے لوک سبھا حلقہ سکندرآباد سے مقابلہ کیا تھا۔ بی آر ایس قائدین سے مجھے قواعد سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ نااہل قرار دینے کے بارے میں بی آر ایس قائدین کو مطالبہ کا حق نہیں ہے۔ ریاست میں انحراف کی بنیاد کے سی آر نے رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر دور حکومت میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے صدرنشین کے عہدہ پر کانگریس رکن کو مقرر کرنے کے بجائے اکبر الدین اویسی کو مقرر کیا گیا تھا۔ اپنے دور حکومت میں اصل اپوزیشن کو نظرانداز کرنے والے آج پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے صدرنشین کے تقرر پر اعتراض کررہے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کے سی آر حکومت نے اپوزیشن پارٹی کو ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ کیوں نہیں دیا تھا۔ اسپیکر کی جانب سے ہائی کورٹ کے فیصلہ کے مطابق کارروائی کے بعد ہی ہم اپنے موقف کا فیصلہ کریں گے۔ ناگیندر نے کہا کہ وہ مناسب وقت پر اپنی حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کو لوٹنے والے آج تلنگانہ کے تحفظ کی بات کررہے ہیں۔ ریاست کی تقسیم کے بعد اقتدار حاصل کرتے ہوئے کے سی آر خاندان نے ریاست کو لوٹ لیا تھا۔ اقتدار سے محرومی کے بعد حکومت کو نشانہ بنارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ کے فیصلہ کا وہ احترام کرتے ہیں اور اسپیکر اسمبلی کے فیصلہ کو قبول کریں گے۔1