جناب اظہر سلیمان، جناب عبدالرحمن داؤدی اور ڈاکٹر اسلام الدین مجاہد کا خطاب
حیدرآباد۔ 8 جنوری (پریس نوٹ) نئی قومی تعلیمی پالیسی کا گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو یہ تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ مرکز کی بی جے پی حکومت تعلیم میں انقلابی تبدیلیوں کے نام پر ملک کے شہریوں پر ایک خاص مذہب اور تہذیب کو مسلط کرنے کی مبینہ کوشش کررہی ہے۔ اس سے نوجوان نسل کے ذہن پراگندہ ہو جائیں گے اور ہندوستانی سماج میں نفرت اور انتشار کی فضاء اور بڑھ جائے گی۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ حکومت ماہرین تعلیم اور سماجی جہد کاروں کی جانب سے دی گئی تجاویز پر غور کرتے ہوئے ایسی پالیسی ملک میں نافذ کرے جس سے تعلیم کا مقصد بھی پورا ہو اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی بھی قائم رہے۔ اقدار پر مبنی تعلیم کے اصولوں کو نظرانداز کرتے ہوئے تعلیم کو زعفرانی رنگ دے دیا جائے تو ہندوستان اکیسویں صدی کے تقاضوں کی تکمیل کرنے میں ناکام ہو جائے گا۔ اس لئے نئی تعلیمی پالیسی کے نفاذ سے پہلے اس پر نظر ثانی کرنا ملک کے مفاد میں بہتر ہے۔ ان خیالات کا اظہار جناب عبدالرحمن داؤدی، سکریٹری شعبہ تعلیم، جماعت اسلامی ہند حلقہ تلنگانہ نے آج سید مودودی ؒ لکچر ہال، چھتہ بازار میں جماعت اسلامی ہند چارمینار کے اجتماع عام کو ’’نئی قومی تعلیمی پالیسی اور اس کے مضمرات‘‘ کے عنوان پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ وہ مجوزہ تعلیمی پالیسی پر صرف تنقید کرنے یا اس پر واویلا مچانے کے بجائے اس بات کی کوشش کریں کہ کس طرح اس کے ذریعہ فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ یہ پالیسی بحرحال نافذ ہوکر رہے گی۔ اس لئے مسلم ماہرین تعلیم کی ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوان نسل کو مشرکانہ عقائد سے بچانے کے لئے ایسا تخلیقی ادب تیار کریں جس سے صحیح انداز میں نوخیز نسل کے ذہن آلودہ نہ ہوسکیں۔ انہوں نے کہا کہ نئی تعلیمی پالیسی میں مواقع بھی ہیں اور خطرات بھی ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ مواقع پر نظر رکھتے ہوئے آگے بڑھیں اور خطرات کی سنگینی کو بھی نظرانداز نہ کریں۔ جناب احمد سلیمان اظہر، ناظم ڈیویژن مغل پورہ نے سورہ فرقان کی آیات کا درس دیتے ہوئے کہا کہ رحمن کے بندے وہ ہوتے ہیں جو زمین پر نرم چال چلتے ہیں اور جاہل جب ان سے الجھتے ہیں تو انہیں سلام کرکے گذر جاتے ہیں۔ یہ لوگ ہیں جو اپنے رب کے حضور راتیں گذارتے ہیں اور اس کا ذکر کرتے ہیں۔ اللہ کے نیک بندے وہ ہیں جو جہنم سے پناہ مانگتے ہیں کیونکہ یہ بڑا ٹھکانہ ہے۔ ان کی یہ بھی صفات ہوتی ہیں کہ وہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ بخل سے کام لیتے ہیں اور نہ بیجا اسراف کرتے ہیں بلکہ اعتدال کی روش اختیار کرتے ہیں۔ ڈاکٹر سید اسلام الدین مجاہد، امیر مقامی نے اختتامی کلیمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی کسی بھی پالیسی میں خوبیاں اور خامیاں ہوتی ہیں۔ اہل فکر و نظر کی ذمہ داری ہے کہ وہ پالیسیوں پر گہری نظر رکھیں۔ نئی تعلیمی پالیسی میں خوبیاں کم ہیں اور خامیاں زیادہ ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ اس پالیسی کو نافذ کرنے سے پہلے ان خامیوں کو دور کرے تاکہ ملک میں نیا تعلیمی انقلاب آسکے۔ جناب محمد حامد نے نظامت کی۔