نئے اسلامی سال کے موقع پر ہماری زندگی میں تبدیلی ضروری

   

شاہی مسجد باغ عامہ میں ڈاکٹر مولانا احسن بن محمد الحمومی کا خطاب
حیدرآباد، یکم اگست (پریس نوٹ) یکم محروم الحرام 1444 سے نیا اسلامی سال شروع ہوچکا ہے۔ ان لوگوں کے لیے مبارکباد ہے، جن کی زندگی خوف خدا اور پنچ وقتہ نمازوں کے ساتھ گزاری ہے۔ وہ لوگ بھی قابل صد ستائش ہیں، جنھوں نے اپنے افراد خاندان کے ساتھ زندگی بہتر بنانے اور خدا کو راضی کرنا کا منصوبہ بنایا ہے۔ وقت گزارتا جارہا ہے، اس لیے جو کام ضروری ہے، اس کو کرلینا چاہیے۔ہم وقت سے پہلے اپنا محاسبہ کریں۔ ان خیالات کا اظہار شاہی مسجد باغ عامہ، نامپلی میں ڈاکٹر مولانا احسن بن محمد الحمومی نے کیا ہے۔ مولانااحسن نے کہا کہ اسلامی سال محروم الحرام سے شروع اور ذی الحجہ پر ختم ہوتا ہے۔ ماہ ذی الحجہ حضرت سیدنا ابراہیم اور حضرت سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی قربانی سے شروع ہوتا ہے۔ 18 ذی الحجہ کو حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ کی شہادت ہوئی۔ 24 ذی الحجہ کو حضرت سیدنا عمر رضی اللہ علیہ پر ظالم ابولولو قاتلانہ حملہ کرتا ہے اور یکم محروم کو آپ ؓ کی شہادت ہوتی ہے۔ محروم الحرام میں امام عالی مقام حضرت سیدنا امام حسین ؓ اور اہل بیت اظہارؓ پر ظلم و ستم کیا جاتا ہے۔ 10 محروم الحرام کو حضرت سیدنا امام حسین ؓ کی شہادت ہوتی ہے۔ اسلامی کیلنڈر کی شروعات شہادتوں سے ہوتی ہے اور یہ قربانیوں پر ختم ہوتا ہے۔ ان شہادتوں اور قربانیوں کا جائزہ لیا جائے تو پتا چلے گا کہ کبھی بھی اپنے اصولوں، عقیدہ، نظریہ پر آنچ بھی آجائے تو اس کو برداشت نہیں کیا جاسکتا، اپنے آپ کو قربان کیا جاسکتا ہے لیکن اصول اور نظریہ سے کبھی مصالحت نہیں کی جاسکتی۔ مولانا احسن نے فرمایا کہ حضرت سیدنا عمر ؓ پیدائشی مسلمان نہیں تھے، بلکہ وہ اسلام اور پیغمبر انسانیت کے سب سے بڑے دشمن تھے۔ جب کہ حضور صلی اللہ علیہ نے حضرت عمر ؓ کی ہدایت کے لیے دعا کی کہ اے اللہ عمر ؓ کے ایمان کے ذریعہ اسلام کو طاقت عطا فرما۔ اس میں بہت بڑا راز پنہاں ہے۔ مسلمانوں! ہندوستان میں تمہیں اسلام کے بڑے بڑے دشمن نظر آرہے ہیں۔ آپ ان کے لیے دعا کیجئے، ان تک اسلام کا پیغام پہنچائیے۔ حضرت عمر ؓ کے سلسلے میں حضور صلی اللہ علیہ کی دعاؤں سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اسلام کے بڑے سے بڑے دشمنوں کو حکمت و تدبر سے اسلام کا حامی بنایا جاسکتا ہے اور ان کی ہدایت کے لیے دعائیں کی جائے۔ حضرت عمر ؓ کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ نے فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی ہوتا وہ حضرت عمر ؓ ہوتے۔ ایک بار صحابہ کرام جمع تھے، اسی دوران امیرالمومین حضرت عمر ؓ نے صحابہ سے پوچھا کہ آپ سب کی سب سے بڑی دلی خواہش کیا۔ جب تمام صحابہ نے بتایا تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ میری دلی خواہش یہ ہے کہ مجھے حضرت ابو عبیدہ بن جراح جیسا بہادر مل جائے، مجھے حضرت معاذ ابن جبل اورحضرت حذیفہ جیسی جوان شخصیت مل جائے تو میں انھیں لے کر اللہ کے نام اور کلمہ کو بلند کروں گا۔ اس سے پتہ چلا کہ کروڑوں کی دولت سے زیادہ ایک ایک نوجوان کی اہمیت ہے۔اس لیے شخصیت سازی ضروری ہے۔ ہم لوگ ایک بھیڑ بنتے جارہے ہیں۔ افراد بنیے، جس سے اقوام میں تبدیلی آسکے گی۔