وہ میری نفرت سے پہلے نہ تھا اتنا دلکش
از سرنو اسے ایجاد کیا ہے میںنے
ملک کے عوام میں مرکزی حکومت اور بی جے پی کے خلاف ناراضگی میں زبردست اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ قائد اپوزیشن راہول گاندھی کی جانب سے شروع کئے گئے چھاتروں کی گونج پروگرام اور پھر جنتر منتر پر سی جے پی کی جانب سے منظم کئے گئے احتجاج اور مابعد حالات میں مرکزی حکومت کو شدید عوامی ناراضگی کا سامنا ہے ۔ خاص طور پر ملک کا نوجوان طبقہ اور طلباء برادری حکومت کے خلاف شدید جذبات رکھتی ہے ۔ مرکزی حکومت نے ابتداء میں اس احتجاج کی اہمیت کو سمجھنے سے گریز کیا تھا ۔ تاہم بعد میں حکومت کو ان طلباء اور نوجوانوں کے آگے جھکنا پڑا ۔دھرمیندر پردھان کابینہ سے مستعفی ہوگئے ۔ نوجوانوں میں حکومت کے خلاف غم و غصہ اب بھی پایا جاتا ہے ۔ امتحانات میں بے قاعدگیاں ‘ روزگار کی فراہمی میں حکومت کی ناکامی جہاں نوجوانوں کی ناراضگی کا سبب ہے تو وہیں ملک کے عوام میں مہنگائی کی وجہ سے بے چینی کی کیفیت ہے ۔ کہیں قیمتیں بڑھ رہی ہیں تو کہیں روزگار ختم ہو رہے ہیں۔ حکومت پر اس قدر بے اعتباری بڑھ گئی ہے کہ ملک کی شرح ترقی اور جی ڈی پی کے دعوے بھی اب غلط ثابت کئے جا رہے ہیں۔ یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ ملک کی حقیقی ترقی 2.6 فیصد ہوئی ہے جس کو حکومت کی جانب سے بڑھا چڑھا کر 7.8 فیصد قرار دیا جا رہا ہے ۔ ملک کے کئی ماہرین معاشیات اور اہم ذمہ داروں نے بھی حکومت کے اعداد و شمار پر سوال اٹھائے ہیں اور شبہات و تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔ ساری صورتحال حکومت کے خلاف جاتی دکھائی دے رہی ہے اور اس سے نمٹنے کیلئے حکومت نے اپنی ترجیحات میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے اور نہ ہی عوام کی شکایات کو دور کرنے کا کوئی منصوبہ تیار کیا ہے ۔ اس کے برخلاف حکومت کی جانب سے ایک بار پھر سے فرقہ وارانہ منافرت اور جذبات کو ہوا دینے کی کوشش ہی کی جا رہی ہے ۔ کہیں مسجدوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مسمار کیا جا رہا ہے تو کہیں دینی مدارس کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے نوٹس جاری کی جارہی ہے اور انہیں بند کیا جا رہا ہے ۔
اترپردیش کے سہارنپور میں ایک سو سال سے زائد پرانی مسجد کو غیر قانونی قرار دے کر مسترد کردیا گیا ۔ بات یہیں تک نہیں تھم گئی بلکہ اب مراد آباد کی ایک مسجد کو بھی نوٹس جاری کردی گئی ہے ۔ اس کے بعد کس مسجد کا نمبر آئے گا یہ کہا نہیں جاسکتا ۔ اسی طرح مغربی بنگال میں دینی مدارس کو نشانہ بنانے کا سلسلہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے ۔ سینکڑوں دینی مدارس کو حکومت کی جانبس ے بند کیا جا رہا ہے ۔ کسی نہ کسی بہانے سے مسلمانوں کے مذہبی مقامات اورعبادتگاہوں کو نشانہ بناتے ہوئے فرقہ وارانہ جذبات کو مشتعل کیا جا رہا ہے اور اس کے ذریعہ بی جے پی سیاسی اور انتخابی فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہے ۔ بی جے پی کے اقتدار والی دیگر ریاستوں میں بھی مسلمانوں اور اقلیتوں کو حاشیہ پر لانے کی مہم شروع کردی گئی ہے ۔ یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ بی جے پی اس مسئلہ پر بھی سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتی ہے ۔ وہ اپنے اقتدار والی ریاستوں میں یکساں سںیول کوڈ نافذ کرنے کی بات کر رہی ہے جبکہ ملک پر خود بی جے پی کی حکومت ہے اور وہ قومی سطح پر ایسا کرنا نہیں چاہتی بلکہ اس کے ذریعہ سیاسی روٹیاں سینکنا چاہتی ہے ۔بی جے پی کے عزائم واضح ہوچکے ہیں کہ وہ ملک کے عوام کو راحت پہونچانے اور ان کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش نہیں کرے گی بلکہ عوام کو مسائل سے بھٹکاتے ہوئے فرقہ وارانہ جذبات کو مشتعل کرنا اور اس کے ذریعہ سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہے ۔
اس صورتحال میں ملک کے عوام کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ بی جے پی کے حقیقی عزائم کو سمجھے ۔ بی جے پی آج مسلمانوںاور اقلیتوں کو نشانہ بنارہی ہے اور وقفہ وقفہ سے دلتوں اور پسماندہ طبقات کے خلاف بھی اس کے قائدین اظہار خیال کر رہے ہیں۔ اگر بی جے پی کے عزائم کو ابھی شکست نہیں دی گئی تو ملک کے کئی طبقات کے خلاف محاذ کھول دیا جائے گا اور یہ طبقات صدائے احتجاج بھی بلند نہیں کرپائیں گے ۔ بی جے پی کے عزائم کو ناکام بنانے اور اسے سبق سکھانے کیلئے ملک کے عوام کو ہی کمر کسنی ہوگی ۔