میعاد مکمل کرنے والے قائدین کی توسیع کیلئے دوڑ دھوپ، میناکشی نٹراجن اور مہیش کمار گوڑ پر دباؤ
حیدرآباد۔ 24 مئی (سیاست نیوز) تلنگانہ میں برسر اقتدار کانگریس پارٹی کے لئے نامزد عہدوں پر تقررات کا معاملہ درد سر بن چکا ہے۔ حکومت کے ڈھائی سال کے دوران ایک مرحلہ میں نامزد عہدوں پر تقررات کئے گئے اور بیشتر کارپوریشنوں کے صدور نشین کی میعاد ختم ہوچکی ہے۔ پارٹی کے اقتدار کے لئے 10 برس تک محنت کرنے والے قائدین اور کارکنوں میں مایوسی دیکھی جارہی ہے کیونکہ انہیں ابھی تک کوئی عہدہ نہیں دیا گیا۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی نے نامزد عہدوں پر تقررات کا معاملہ چیف منسٹر ریونت ریڈی پر چھوڑ دیا ہے لیکن پارٹی میں گروہ بندیوں کے نتیجہ میں ناموں کے تعین میں اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔ ایک طرف حکومت اور پارٹی پر ایسے قائدین کا دباؤ ہے جنہیں ابھی تک کوئی عہدہ نہیں دیا گیا تو دوسری طرف میعاد کی تکمیل کرنے والے قائدین عہدے میں توسیع کے لئے دوڑ دھوپ کررہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کئی وزراء نے اپنے حامیوں کی میعاد میں توسیع کے لئے چیف منسٹر ریونت ریڈی سے نمائندگی کی ہے۔ صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ اور تلنگانہ اے آئی سی سی انچارج میناکشی نٹراجن نے بارہا یہ اعلان کیا کہ جلد ہی نامزد عہدوں پر تقررات کئے جائیں گے لیکن اس سلسلہ میں کوئی پیشرفت نہیں ہوسکی۔ مایوس قائدین وزراء اور صدر پردیش کانگریس کے گھر اور دفتر کے چکر کاٹ کررہے ہیں۔ میناکشی نٹراجن نے مارچ اور اپریل میں تقررات کا تیقن دیا تھا لیکن چیف منسٹر ریونت ریڈی کو تقررات میں کوئی عجلت نہیں ہے۔ وزراء اور سینئر قائدین کی جانب سے سفارش کردہ ناموں پر اختلاف رائے کے سبب ریونت ریڈی نے فہرست کو قطعیت نہیں دی۔ بتایا جاتا ہے کہ تقریباً 35 کارپوریشنوں اور بورڈس کے صدور نشین کی میعاد مکمل ہوچکی ہے اور ان میں سے زیادہ تر میعاد میں توسیع کے خواہاں ہیں۔ حکومت نے حال ہی میں مختلف طبقاتی کارپوریشنوں پر تقررات کئے تاکہ پسماندہ طبقات میں پھیلی بے چینی کو دور کیا جاسکے۔ ایک طرف کابینہ میں توسیع نہیں کی گئی تو دوسری طرف نامزد عہدوں پر تقررات کا معاملہ بھی تعطل کا شکار ہوچکا ہے۔ ریاستی کابینہ میں دو نشستیں مخلوعہ ہیں جن پر تقرر کے دعویداروں کی تعداد تقریباً 10 سے زائد ہے۔ بعض ارکان اسمبلی سے پارٹی ہائی کمان نے وزارت کا وعدہ کیا جبکہ بعض دوسرے ایسے ہیں جنہیں کابینہ میں شامل کرنا چیف منسٹر کی دلچسپی ہے۔ امید کی جارہی ہے کہ یوم تاسیس تلنگانہ تقاریب کے بعد وزارت میں توسیع کے ساتھ ساتھ بعض تبدیلیاں کی جاسکتی ہیں۔ پارٹی کے سینئر قائدین کو شکایت ہے کہ دیگر پارٹیوں سے شامل ہونے والے قائدین کو عہدوں کے معاملہ میں ترجیح دی گئی جبکہ حقیقی کانگریسی نظرانداز کردیئے گئے۔ نامزد عہدوں پر تقررات میں تاخیر کے نتیجہ میں مجالس مقامی کے چناؤ پر اثر پڑسکتا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق میناکشی نٹراجن اور مہیش کمار گوڑ نے پارٹی ہائی کمان کو کارکنوں میں پھیلی بے چینی سے آگاہ کردیا ہے۔ ڈسمبر 2023 میں کانگریس کو اقتدار حاصل ہوا اور جون 2024 میں مختلف مراحل میں تقریباً 60 نامزد عہدوں پر تقررات کئے گئے۔ دیکھنا یہ ہے کہ چیف منسٹر اور پارٹی ہائی کمان عہدوں میں توسیع کے لئے دباؤ بنانے والے قائدین کے بارے میں کیا فیصلہ کریں گے۔ 1؍F