سیاحتی مقام پر اجتماعی عصمت ریزی، اسناپ چاٹ سے ملزمین کی شناخت، پولیس شواہد اکٹھا کرنے میں مصروف
حیدرآباد۔ 4 جون (سیاست نیوز) جوبلی ہلز کے کم عمر لڑکی کی اجتماعی عصمت ریزی کیس میں پولیس مزید پیشرفت کرتے ہوئے اہم شواہد اکھٹا کرنے میں مصروف ہے۔ پولیس نے اب تک 4 ملزمین بشمول دو کم عمر لڑکوں کو گرفتار کرلیا ہے، مزید ایک ملزم پولیس کی گرفت سے باہر ہے۔ اب تک کی تحقیقات میں یہ معلوم ہوا ہے کہ 28 مئی کو ہادی نامی ایونٹ منیجر نے امنیشیا اینڈ انسومیا پب میں ایک نان الکوہل تقریب منعقد کی تھی اور اس کے لئے اس نے انسٹاگرام پر نوجوانوں کو مدعو کیا تھا۔ اس ایونٹ میں کئی نوجوان بشمول متاثرہ لڑکی بھی شامل ہوئی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ ایونٹ میں ہی لڑکی سے دست درازی کا معاملہ شروع ہوا تھا اور لڑکی کو پہلے روڈ نمبر 14 بنجارہ ہلزمیں واقع ایک مشہور بیکری کو منتقل کیا گیا اور وہاں سے اسناپ چاٹ کے ذریعہ ایک گروپ فوٹو شیئر کی گئی۔ بعد ازاں متاثرہ لڑکی کو شہر کے مضافاتی علاقہ میں واقع ایک سیاحتی مقام پر لے جایا گیا جہاں پر اس کی اجتماعی عصمت ریزی کی گئی ۔ پولیس نے سی سی ٹی وی کے ذریعہ کئی اہم شواہد اکھٹا کئے ہیں جس میں ایک اننووا گاڑی کا بھی استعمال ہونے کی توثیق کے بعد اسے ضبط کرلیا گیا ہے۔ اجتماعی عصمت ریزی کا شکار ہونے والی لڑکی پانچوں ملزمین سے واقفیت نہیں رکھتی تھی لیکن اسناپ چاٹ پر شیئر کئے گئے تصویر کی بنیاد پر اس نے نوجوانوں کی شناخت کی جس کے ذریعہ پولیس نے ملزمین کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں گرفتار کیا ہے۔ واضح رہے کہ پولیس نے 5 ملزمین بشمول سعد الدین ملک اور عمیر خان کی نشاندہی کرلی ہے جبکہ ایک رکن اسمبلی کے بیٹے کے بارے میں بھی مکمل تفصیلات حاصل کئے جارہے ہیں اور سمجھا جاتا ہے کہ تفتیش کے لئے عنقریب اسے پولیس اسٹیشن طلب کیا جائے گا۔ پولیس شواہد اکٹھا کرنے کے سلسلہ میں لڑکی کا طبی معائنہ کروایا ہے جبکہ گرفتار کئے گئے نوجوانوں کا بھی سرکاری اسپتال میں معائنہ کیا گیا ہے۔ ب