ندیم جاوید کی پارٹی امور پر گہری نظر ۔ پل پل کی رپورٹس پرینکا گاندھی کو روانہ

,

   

سینئر قائدین ریونت ریڈی سے زیادہ مانکیم ٹیگور سے ناراض ‘ہائی کمان سے شکایت
پارٹی قائدین میں اتحاد کیلئے بس یاترا کی تجویز ۔ پارٹی قائدین کے مسلسل اجلاس

محمد نعیم وجاہت
حیدرآباد 18 اگسٹ :نو نامزد اے آئی سی سی سکریٹری انچارج تلنگانہ کانگریس اُمور ندیم جاوید پارٹی کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور پل پل کی خبر قومی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی کو پہنچارہے ہیں ۔ کانگریس ہائی کمان آئندہ انتخابات میں تلنگانہ سے کافی امیدیں وابستہ کئے ہوئے ہے ۔ کانگریس کے سیاسی حکمت عملی ساز سنیل کی جانب سے بھی وقتاً فوقتاً ہائی کمان کو رپورٹ پہونچائی جارہی ہے ۔ جس کا جائزہ لینے کے بعد تلنگانہ میں کانگریس اقتدار کو یقینی بنانے ہائی کمان پرینکا گاندھی کو تلنگانہ کانگریس کا انچارج بنانے پر سنجیدگی سے غور کررہی ہے ۔ اُس سے قبل تلنگانہ کے زمینی حقائق کا جائزہ لینے ندیم جاوید کو اے آئی سی سی سکریٹری انچارج تلنگانہ امور نامزد کرکے روانہ کیا گیا ۔ تقریباً ایک ہفتہ سے حیدرآباد میں مقیم ندیم جاوید پارٹی قائدین سے ملاقات کرکے تازہ حالات کا جائزہ لے رہے ہیں ۔ پارٹی قائدین کی بغاوت و سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں ۔ ساتھ ہی سابق صدر تلنگانہ کانگریس و رکن پارلیمنٹ اتم کمار ریڈی کانگریس کے سینئر قائد پولیٹیکل آفیسر کمیٹی کے کنوینر محمد علی شبیر سے علحدہ گھنٹوں ملاقات کرکے تازہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ہے ۔ پارٹی کو مستحکم کرنے ان سے رائے حاصل کی ہے ۔ ریاست میں پارٹی قائدین کی گروپ بندیوں و اختلافات کی وجوہات جاننے کی کوشش کی ہے ۔ علحدہ تلنگانہ کی تشکیل کے باوجود ریاست میں کانگریس کے کمزور موقف کے بارے میں بھی معلومات حاصل کی ہیں ۔ اس کے علاوہ ندیم جاوید پارٹی کے دوسرے قائدین سے ملاقات کرکے ان کی شکایتوں و تجاویز اور تحریری یادداشتوں کو بھی قبول کررہے ہیں ۔ ساتھ ہی گزشتہ چار سال کے دوران چار مرتبہ منعقد ہوئے اسمبلی حلقوں کے انتخابات میں کانگریس کی شکست کا بھی جائزہ لے رہے ہیں اور حلقہ منگوڑ کے ضمنی انتخاب پر ریاست میں جو صورتحال ہے اس پر تبادلہ خیال کیا ہے ۔ ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ کانگریس قائدین جتنا ریونت ریڈی کے انداز کارکردگی سے ناراض ہیں اُس سے زیادہ انچارج مانکیم ٹیگور سے ناراض ہے ۔ ریاست میں پارٹی قائدین کے درمیان جو اختلافات ہے اس کو دور کرنے اور تمام پارٹی قائدین کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے میں مانکیم ٹیگور ناکام ہوگئے ہیں بلکہ ان پر الزام ہے کہ وہ ہمیشہ ریونت ریڈی کی حمایت کرتے ہیں ۔ عام خیال یہ ہیکہ پارٹی کے ناراض قائدین کو سمجھانے اور منانے کی کوشش نہیں کی جارہی ہے ۔ جس کا آر ایس ایس و بی جے پی کی جانب سے فائدہ اٹھایا جارہا ہے ۔ مختلف ذرائع سے ان ناراض قائدین کو ورغلایا جارہا ہے ۔ اور وہ کانگریس میں رہ کر خود کو کانگریسی کہتے ہوئے کھلے عام بیانات جاری کرکے عوام میں غلط پیغام روانہ کررہے ہیں اور یہ بتایا جارہا ہے کہ کانگریس میں سب ٹھیک ٹھاک نہیں ہے ۔ ندیم جاوید ان تمام امور کا گہرائی سے جائزہ لے رہے ہیں اور ریاست کے ذات پات طبقہ اور مذہب کے ووٹوں کے تناسب کا جائزہ لیتے ہوئے کسی طبقہ کیلئے کیا کیا جائے اور ان طبقات کو پارٹی سے قریب کرنے کونسے طریقہ کار اختیار کیا جائے اس پر بھی رپورٹ تیار کررہے ہیں گزشتہ دو اسمبلی انتخابات میں مسلمانوں کی اکثریت نے ٹی آر ایس کو ووٹ دیا ہے ۔ اس مرتبہ مسلمانوں کے ووٹ کانگریس کو حاصل کرنے کیا فارمولہ اختیار کیا جائے اس پر بھی غورکررہے ہیں ۔ ریاست میں 40 تا 60 ایسے اسمبلی حلقہ ہیں جہاں مسلمانوں کے ووٹوں کا تناسب فیصلہ کن ہے ۔ اس کیلئے علحدہ حکمت عملی تیار کی جارہی ہے ۔ ایس سی ، ایس ٹی طبقات کیلئے مختص اسمبلی حلقوں پر کامیابی کیلئے علحدہ منصوبہ تیار کیا جارہا ہے ۔ 2004 ء کے طرز پر پارٹی قائدین کے درمیان اتحاد کا عوام میں پیغام دینے بس یاترا پر بھی غورکررہے ہیں ۔ ان تمام کی رپورٹ پارٹی ہائی کمان کو روانہ کی گئی ہے ۔ اب دیکھنا ہے کہ پارٹی ہائی کمان کا کیا ردعمل ہوگا ۔