نسل نو کی صحیح تربیت عورت کا سب سے بڑا کارنامہ

   


شاہی مسجد باغ عامہ میں مولانا ڈاکٹر احسن بن محمد الحمومی کا خطاب
حیدرآباد، 10 ستمبر (پریس نوٹ) اللہ تعالی نے انسانوں کو پیدا کیا تو انسانوں کی ضرورت کا بھی خیال رکھا۔ انسانیت کی بقا انسان کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ انسانیت کی خدمت یہ ہے کہ انسان دیگر انسانوں کو زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کرے اور انسانیت کے لیے کوئی خطرہ نہ بنے، تاکہ انسانیت کی بقا ممکن ہو۔ ہمیں جس طرح پرسکون ماحول اور دیگر وسائل دستیاب ہوئے ہیں۔ یہ ہمارا فرض ہے کہ یہ سب ہماری آنے والی نسلوں کو بھی میسر ہوسکے۔ اس نظام کے تسلسل کے لیے اللہ تعالی نے دو صنف یعنی مرد و عورت کو تخلیق کیا۔ انسان، انس سے بنا ہے، یعنی بغیر کسی رفاقت کے زندگی گزارنا مشکل ہوتا ہے۔ اسی ضرورت کی بنا پر اللہ رب العزت نے حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ حضرت حوا علیہ السلام کو پیدا کیا۔ اللہ تعالی نے فرمایا ’’اے لوگو اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی میں سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مرد و عورت پھیلادئیے اور اللہ سے ڈرو جس کے نام پر مانگتے ہو اور رشتوں کا لحاظ رکھو بے شک اللہ ہر وقت تمہیں دیکھ رہا ہے‘‘ (سورۃ النسا) ان خیالات کا اظہار شاہی مسجد باغ عامہ میں ڈاکٹر مولانا احسن بن محمد الحمومی نے خطبہ جمعہ کے دوران کیا ہے۔مولانا احسن الحمومی نے کہا کہ اللہ رب العزت نے انسانوں کو ان کی ضرورت کے مطابق صلاحیتوں سے نوازہ ہے۔ سختی، محنت، طاقت مرد کی ضرورت ہے، تاکہ وہ کام بخوبی انجام دے سکے۔ اسی طرح سمجھداری، شفقت، محبت اورخاطر داری خواتین میں بہ درجہ اتم پائی جاتی ہے۔ انسانیت کی بقا اور تربیت میں بڑا رول خواتین کا ہے۔ مولانا احسن نے کہا کہ گھریلو خواتین میں اعتماد کو بڑھانے کی ضرورت ہے کہ گھر کا نظم و نسق چلانا اور اولاد کی پرورش کرنے بھی بڑا اہم اور قابل فخر کام ہے۔ ان ہی خواتین کی وجہ سے گھر جنت کا بغیچہ بن سکتا ہے اور خوش حالی اور آپسی محبت و تعلق میں مزید مضبوطی آسکتی ہے۔ اس گھر میں پرورش پانے والے بچے بھی باشعور اور صلاحیت مند ہوتے ہیں۔ خواتین میں اللہ سے تعلق، رسول اکرامؐ سے محبت اور دین داری ہوگی تو یہ صفات نسلوں میں منتقل ہوگی۔ مولانا احسن نے کہا کہ مرد و خواتین کے لیے یکساں طور پر تربیتی پروگرم منعقد کیے جائیں۔ جب سماج کے ان دو کردار کو تربیت فراہم کی جائے تو اس کا اثر آنے والی نسلوں پر پڑتا ہے۔ مسلم سماج اخلاقی گراوٹ کی انتہا کو پہنچ کیا ہے۔ آج سماج کو دین دار ماؤں کی ضرورت ہے۔حضورؐ نے فرمایا کہ ماں کے قدموں کے نیچے جنت ہے۔ مولانا نے کہا کہ ہر لڑکی کو پڑھایا جائے۔ ان میں دین داری پیدا کی جائے۔