نظام دکن کے محلات اور دور آصفیہ کی نشانیوں کو مٹانے کی منظم سازشیں

   

حکومت کے قول و فعل میں تضاد۔ تاریخی ورثہ کی تباہی پر مجرمانہ خاموشی اور بالواسطہ تائید۔ عوام کو مہم شروع کرنے کی ضرورت
حیدرآباد۔12اپریل(سیاست نیوز) شہر میں نظام دکن کے تاریخی محلات اور دور آصفیہ کی نشانیوں کو مٹانے کی منظم سازش کی جا رہی ہے یا حکومت کی جانب سے تہذیبی ورثہ کی تباہی پر خاموشی اختیار کرکے نظام دکن کے آثار کو ختم کرنے میں تعاون کیا جا رہاہے! خود حکومت کی جانب سے ایرم منزل کے علاوہ دواخانہ عثمانیہ کو منہدم کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا تھا لیکن متحرک سماجی کارکنوں کے سبب حکومت ایسا نہیں کرپائی اور اب کنگ کوٹھی پیالس کے اندرونی حصہ میں موجود تمام عمارتوں کو منہدم کرکے اس قیمتی اراضی کو ہڑپنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حکومت کی جانب سے تاریخی عمارتوں اور دو ر آصفیہ کے تہذیبی ورثہ کے تحفظ کے کئی وعدے کئے گئے لیکن تہذیبی ورثہ کی تباہی کیلئے راہیں ہموار کرنے میں ٹی آر ایس کے منتخبہ اور نامزد نمائندوں کا اہم رول رہا۔ کنگ کوٹھی پیالس میں عقبی باب الداخلہ سے گذشتہ یوم داخلہ کی کوشش میں ہنگامہ آرائی کے دوران پولیس کی مداخلت اور چند افراد کی گرفتاری کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ حکمراں جماعت کے ایک رکن اسمبلی جن کا نام عاشور خانہ علی سعد مہیشورم کی موقوفہ اراضی پر قبضہ میں بھی لیا جاتا ہے اس کے حامیوں نے نذری باغ کا قبضہ حاصل کرنے کی کوشش کی ہے جبکہ کنگ کوٹھی پیالس کی فروخت کی معاملتیں متنازعہ ہوتی جا رہی ہیں ۔ شہر کی جماعت سے قربت رکھنے والے ایک رئیل اسٹیٹ تاجر کا بھی دعویٰ ہے کہ انہوں نے پیالس کی اراضی خریدی ہے جبکہ جواہرات کے تاجر سوکیش گپتا کا بھی کنگ کوٹھی پیالس کے خریداروں میں شمار کیا جا رہاہے۔ نہاریکا انفراسٹرکچرس کے دعوے کے مطابق ان کی کمپنی نے کنگ کوٹھی پیالس کی ملکیت حاصل کرلی جبکہ دیگر دعویدار بھی پیالس پر ملکیت کا دعویٰ کررہے ہیں۔ پیالس کسی کی بھی ملکیت ہو حکومت بالخصوص محکمہ بلدی نظم و نسق کے علاوہ وزارت سیاحت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہر کے سرکردہ تہذیبی ورثہ کے تحفظ کو یقینی بنائے ۔ گذشتہ ماہ قلب شہر میں واقع تاریخی عمارت خسرو منزل کے انہدام کی راہیں ہموار کی گئیں اور بلڈرس نے تعطیلات کا سہارا لے کر اسے منہدم کردیا بلکہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے اس مقام پرتعمیر کی اجازت دینے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ خسرو منزل کے انہدام اور رہائشی کامپلکس کی تعمیر کی اجازت کے لئے بھی سیاسی اثر و رسوخ کا استعمال کیا گیا ۔ کنگ کوٹھی پیالس جہاں نواب میر عثمان علی خان نے اپنی زندگی کے آخری ایام گذارے اور اس پیالس کے ذریعہ ریاست حیدرآباد پر حکمرانی کی اس کو اب تباہ کیاجانے لگا ہے اور حکومت کی جانب سے شہر کی کمانوں کو رنگ و روغن کرکے یہ تاثر دیا جا رہاہے کہ وہ تہذیبی ورثہ کے تحفظ کی کوشش میں مصروف ہے۔ ہیریٹیج عمارتوں کے تحفظ کیلئے حکومت کو اختیار ہے کہ وہ ان کے تحفظ کیلئے خود بجٹ جاری کرے یا مالکین عمارت کے تحفظ اور اس کی آہک پاشی کے ذریعہ تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ کنگ کوٹھی کے مکینوں نے بتایا کہ پیالس کی اہمیت کا اندازہ ان لوگوں کو نہیں ہے جو پڑوسی ریاستوں سے تعلق رکھتے ہیں اسی لئے وہ پیالس کی بیرونی دیواروں کو نقصان پہنچائے بغیر اندرونی حصہ کو مکمل منہدم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ پیالس کے آثار کو مٹایا جاسکے۔ شہر کی تاریخ اور تہذیب سے دلچسپی رکھنے والوں کو چاہئے کہ وہ کنگ کوٹھی پیالس کے تحفظ کو یقینی بنانے مہم کا آغاز کریں کیونکہ یہ عمارتیں صرف اراضیات یا ان پر تعمیر محلات نہیں ہے بلکہ شہر کی شان وشوکت کے علاوہ اس شہرکی عظمت رفتہ اور حکمرانی کا ثبوت ہیں ۔ دونوں شہروں کے علاوہ حیدرآباد کے مختلف اضلاع میں دور آصفیہ کے دوران کئی تاریخی عمارتیں تعمیر کی گئی ہیں اور اب شہر میں ان کی تباہی پر خاموشی اختیار کی جاتی ہے تو دکن کے کسی بھی علاقہ میں سلطنت آصفیہ کی تہذیب و تمدن کی کوئی نشانی باقی نہیں رکھی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق گذشتہ یوم کنگ کوٹھی کے عقبی حصہ میں قبضہ کی کوشش منظم منصوبہ بندی کا حصہ تھی لیکن مقامی عوام کے متحرک ہونے اور مخالف گروپ کے فوری ردعمل کے سبب یہ ناکام ہوچکی ہے۔ حکمراں جماعت کی جانب سے گذشتہ یوم دہلی میں احتجاجی پروگرام کو نظر میں رکھتے ہوئے یہ منصوبہ تیار کیا گیا کیونکہ برسراقتدار جماعت کے رکن اسمبلی ایک فریق کی طرفداری کر رہے ہیں جبکہ شہر کی سیاسی جماعت سے قریبی روابط والے رئیل اسٹیٹ تاجر اس اراضی پر بالواسطہ طور پر اپنا دعویٰ پیش کرتے ہوئے اس پر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔م