ظفر جاوید کی شکایت پر سی سی ایس کی کارروائی، بینکوں سے ایک کروڑ روپے نکالنے کا الزام
حیدرآباد۔ 19 جولائی (سیاست نیوز) حیدرآباد کے تاریخی اور نامور نظام کلب کے فنڈس میں مبینہ بے قاعدگیوں کے خلاف سنٹرل کرائم اسٹیشن پولیس میں شکایت درج کرائی گئی ہے۔ مقامی عدالت کی ہدایت پر سی سی ایس پولیس نے ایک کروڑ سے زائد روپے کی بے قاعدگیوں کے سلسلہ میں مقدمہ درج کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کردیا۔ نظام کلب کے صدر ظفر جاوید کی شکایت پر ایف آئی آر درج کیا گیا جس میں سابق نائب صدر آشا لتا اور سابق سکریٹری ایم امریندر ریڈی پر الزام ہے کہ انہوں نے 2025 میں کلب کے فینانس منیجر اور بینک عہدیداروں کو گمراہ کرتے ہوئے چیکس پر دستخط کئے۔ نظام کلب کے صدر کی عدم دستیابی کی غلط اطلاع دیتے ہوئے ان دونوں نے چیکس پر دستخط کئے۔ اس طرح کلب کی جانب سے انہوں نے بھاری رقومات حاصل کیں۔ ظفر جاوید نے الزام عائد کیا کہ 24 ستمبر 2025 کو دونوں کی میعاد کے ختم ہونے کے باوجود چیکس پر دستخط کئے گئے۔ ایک کروڑ سے زائد رقم کے چیکس کی اجرائی کے بعد ظفر جاوید نے 24 نومبر 2025 کو 3 علیحدہ بینکوں کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے چیکس کی رقم جاری نہ کرنے کی خواہش کی۔ تاہم ایف آئی آر کے مطابق ایک کروڑ روپے حاصل کرلئے گئے تھے۔ شکایت کنندہ نے نومبر 2025 میں پولیس سے معاملہ کو رجوع کیا۔ سی سی ایس پولیس نے ڈسمبر میں تفصیلات حاصل کیں لیکن 65 دن سے زائد تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں کیا جس پر مقامی عدالت سے رجوع ہونا پڑا۔ مقامی عدالت نے 15 جولائی کو مقدمہ درج کرنے اور تحقیقات کی ہدایت دی جس کے بعد سی سی ایس نے اسی دن دونوں ملزمین کے خلاف بی این ایس کی دفعات 318(2)، 316(2)، 319(2) اور 336(3) کے تحت دھوکہ دہی کا مقدمہ درج کیا۔ سی سی ایس کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ابتدائی جانچ کے طور پر شواہد اکھٹا کئے جائیں گے۔ 1؍F