ایس ایم بلال
حیدرآباد۔/13 اپریل۔ نامپلی میٹرو پولیٹن کورٹس کے خصوصی جج نے مجلسی رکن اسمبلی اکبر الدین اویسی کو اشتعال انگیز تقاریر کے دو مقدمات میں با عزت بری کردیا۔ ارکان پارلیمنٹ و ارکان اسمبلی کیسس کی سماعت کیلئے قائم کی گئی خصوصی عدالت کے جج نے نرمل اور ضلع نظام آباد میں درج کئے گئے دو علحدہ اشتعال انگیز تقاریر کے مقدمات میں شواہد کی عدم دستیابی کے نتیجہ میں یہ فیصلہ سنایا۔دو مقدمات کے فیصلہ اور اکبر الدین اویسی کی عدالت میں حاضری کے پیش نظر پولیس کی جانب سے احاطہ عدالت میں سیکوریٹی کے وسیع تر انتظامات کئے گئے تھے۔ پہلا کیس سال 2012 کا ہے جو اس وقت کے ضلع عادل آباد کے نرمل ٹاون میں اکبر الدین اویسی اور مقامی مجلسی صدر عظیم بن یحییٰ کے خلاف درج کیا گیا تھا۔ نرمل پولیس نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ اکبر الدین اویسی نے وہاں کے کالج کے گراؤنڈ میں اشتعال انگیز تقریر کرتے ہوئے دو فرقوں کے درمیان منافرت پھیلانے کی کوشش کی تھی اور قوانین کی خلاف ورزی بھی کی گئی تھی۔ اس سلسلہ میں اکبر الدین اویسی کے خلاف نرمل پولیس نے چارج شیٹ داخل کرتے ہوئے 33 گواہان کے بیانات قلمبند کئے تھے اور چندی گڑھ فارنسک لیباریٹری کی رپورٹ بھی پیش کی گئی تھی۔ دوسرا کیس سال 2013 کا ہے جو نظام آباد ٹاون میں 5 فروری کو درج کیا گیا تھا۔ اس کیس میں پولیس نے الزام عائد کیا تھا کہ اشتعال انگیز تقریر کے ذریعہ عوام کو مشتعل کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ ان مقدمات میں مجلسی رکن اسمبلی کو گرفتار کرکے تقریباً 40 دن کیلئے جیل بھی بھیجا گیا تھا۔ بعد ازاں نظام آباد کیس کی تحقیقات کو ریاستی کرائم انوسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ ( سی آئی ڈی ) کے حوالے کردیا گیا اور تحقیقاتی ایجنسی کی جانب سے چارج شیٹ داخل کرنے پر عدالت نے 41 گواہان بشمول پولیس عہدیدار اور خانگی افراد کے بیانات قلمبند کئے گئے تھے۔ آج دوپہر کو ایم پی، ایم ایل ایز کورٹ کے خصوصی جج نے اکبر الدین اویسی کو بری کرنے کا فیصلہ سنایا۔ عدالت نے بتایا کہ استغاثہ کی جانب سے مذکورہ مقدمات میں ٹھوس شواہد پیش نہیں کئے گئے تھے جس کے نتیجہ میں جرم ثابت کرنے میں استغاثہ ناکام ہوگیا۔ اس کیس کی پیروی کرنے والے نامپلی کریمنل کورٹ کے وکلاء ایم اے عظیم اور محمد اسمعیل نے میڈیا کو بتایا کہ پولیس کی جانب سے اکبر الدین اویسی کے خلاف شواہد پیش کرنے میں ناکامی پر یہ برأت ہوئی ہے۔