نلگنڈہ۔25/جون(سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ضلع نلگنڈہ کو دہلا کر رکھ دینے والے چار افراد کے بہیمانہ قتل کے سنسنی خیز مقدمہ میں پولیس تحقیقات کے دوران اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق واردات کے پس منظر میں خاندانی جائیداد کا تنازع کارفرما ہونے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔باوثوق ذرائع کے مطابق مقتولہ حسینہ کے نام پر تقریباً ایک کروڑ روپے مالیت کی غیر منقولہ جائیداد موجود تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ مذکورہ جائیداد اپنے پہلے شوہر کے بچوں کے بجائے موجودہ شوہر محمد سلطان کے بچوں کے نام منتقل کرنا چاہتی تھیں۔ جس پر خاندان کے بعض افراد میں اختلافات پیدا ہو گئے تھے۔تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آنے کی اطلاع ہے کہ حسینہ کے پہلے شوہر کی بیٹی اس کے شوہر اور شوہر کی بہن نے مبینہ طور پر قتل کی منصوبہ بندی کی۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ واردات کو انجام دینے کے لیے حیدرآباد کے قدیم شہر سے تعلق رکھنے والے چار جرائم پیشہ افراد کی خدمات حاصل کی گئیں اور انہیں مبینہ طور پر سپاری دی گئی۔اس المناک واقعہ میں محمد سلطان 45 سالہ حسینہ40سالہ مزمل 20سالہ اور افسرہ 11سالہ جاں بحق ہوئے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق محمد سلطان کے جسم پر چھ، حسینہ پر سات افسرہ پر نو اور مزمل کے جسم پر سولہ چاقو کے زخم پائے گئے جو واردات کی سفاکیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ذرائع کے مطابق حملے کے دوران کمسن افسرہ خوفزدہ ہو کر پلنگ کے نیچے چھپ گئی تھی تاہم حملہ آوروں نے اسے وہاں سے نکال کر قتل کر دیا۔ اسی طرح مزمل نے مبینہ طور پر مزاحمت کی جس کے نتیجے میں اسے بھی متعدد وار کرکے ہلاک کر دیا گیا۔اطلاع ہے کہ اس سلسلے میں کئی مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ شروع کر دی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کیس کے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور مزید اہم حقائق سامنے آنے کا امکان ہے۔یہ لرزہ خیز واقعہ ضلع نلگنڈہ اور اطراف کے علاقوں میں شدید غم و غصہ کا باعث بنا ہوا ہے۔ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعہ میں ملوث تمام ملزمان کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا دی جائے۔