99.3 فیصد کرنسی دوبارہ سسٹم میں واپس ، نقلی نوٹوں میں 10.7 فیصد کا اضافہ
حیدرآباد 3 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : وزیراعظم نریندر مودی نے نوٹ بندی کے بعد ملک میں نقدی سے پاک آن لائن ادائیگیاں بڑھ جانے کی توقع کرتے ہوئے اپنے فیصلے کی مدافعت کی تھی تاہم نوٹ بندی کے 6 سال کے بعد نقدی لینے دین کی سرگرمیوں میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔ آر بی آئی کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق 4 نومبر 2016 کو زیر گردش ( چلن ) میں رہنے والی کرنسی نوٹوں کی قدر 17.74 لاکھ کروڑ روپئے تھی جو 23 دسمبر 2022 تک بڑھ کر 32.42 لاکھ کروڑ تک پہونچ گئی ہے ۔ زیر گردش کرنسی کی قدر میں 83 فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔ نوٹ بندی کے قلیل مدتی اثرات کی وجہ سے جنوری 2017 تک چلن میں رہنے والے نوٹوں کی قدر گھٹ کر 9 لاکھ کروڑ تک محدود ہوگئی تھی ۔ جس کی بہ نسبت فی الحال چلن میں موجود نوٹوں کی قدر میں تقریبا تین گنا ( 260 فیصد ) اضافہ ہوگیا ہے ۔ نہ صرف زیر گردش نقدی کی قدر بلکہ نوٹوں کی تعداد میں بھی بھاری اضافہ ہوا ہے ۔ وزیراعظم نریندر مودی نے 8 نومبر کو رات 8 بجے قوم سے خطاب میں 500 اور 1000 روپئے کی نوٹوں کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ اس فیصلے سے معاشی نظام میں کالے دھن کو روکنے اور نقلی نوٹوں پر قابو پانے مدد ملے گی ۔ اس فیصلے سے معیشت میں نقدی کی گردش کم ہوگی اور ڈیجیٹل لین دین کی حوصلہ افزائی ہوگی ۔ نوٹ بندی کے بعد مارکٹ میں ڈیجیٹل لین دین میں جہاں زبردست اضافہ ہوا وہیں نقد ادائیگیوں کی قدر بھی بڑھیہے ۔ وزیراعظم کے راتوں رات اچانک فیصلے سے ملک کے عوام مشکلات و دشواریوں سے دوچار ہوئے ہیں ۔ نریندر مودی اپنے مقصد میں ناکام ہوگئے ہیں ۔ نوٹوں کی چلن کے اعداد و شمار بھی اس کی نشاندہی کررہے ہیں ۔ بڑی نوٹوں کی تنسیخ کے بعد مرکزی حکومت یہ توقع کر رہی تھی کہ 3 تا 4 لاکھ کروڑ روپئے کالا دھن پر قابو پالیا جائیگا لیکن اس کے برعکس منسوخ شدہ نقدی کا 99.3 فیصد کرنسی نوٹ دوبارہ سسٹم میں داخل ہوگئے ہیں جب کہ منسوخ بڑے نوٹوں کی کل قیمت 15.41 لاکھ کروڑ روپئے تھی وہی 15.31 لاکھ کروڑ روپئے کے نوٹ سسٹم میں واپس ہوگئے ۔ ابھی تک کتنا کالا دھن پکڑا گیا اس کی کوئی واضح تفصیلات نہیں ہے ۔ نوٹ بندی کے بعد سسٹم میں جعلی نوٹوں کا بہاؤ نہیں رکا ہے ۔ گذشتہ مالی سال میں ضبط جعلی نوٹوں میں 10.7 فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔۔ ن