نپورشرما کے تعلق سے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم : حسین دلوائی

,

   

گستاخ کی گرفتاری کیلئے خصوصی دستہ قائم کرنے کا مطالبہ ، ممبئی کے باندرہ علاقہ میں خصوصی خطاب

ممبئی : حضورﷺ کی شان میں گستاخانہ الفاظ استعمال کرنے والی نپور شرما کے تعلق سے سپریم کورٹ کے فیصلے کا سابق رکن پارلیمنٹ حسین دلوائی نے خیرمقدم کیا ہے اور مطالبہ کیا ہیکہ اسکی گرفتاری کے لئے ایک خصوصی دستہ قائم کرکے اسے فوری طور پر سلاخوں کے پیچھے بھیجا جائے واضح رہیکہ گرفتاری سے بچنے کے لئے نپور شرما کی پٹیشن کی سماعت کے دوران آج سپریم کورٹ نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ ملک کی موجودہ صورتحال کی ذمے دار شرما کا بد بختانہ بیان ہے -اسے پورئے ملک سے معافی مانگنی چاہیئے حسین دلوائ نے سپریم کورٹ کے مذکورہ بالا حق گوئی حق بجانب فیصلہ کی ستائش کرتے ہوئے اس کا استقبال کیا اور کہا کہ اب اس ملک کو سپریم کورٹ کے علاوہ کوئی بچا نہیں سکتا ہے ۔ مولانا آزاد وجار منچ کے کارکنان سے باندرہ میں خطاب کرتے ہوئے انھوں نے اپنے خطاب میں سپریم کورٹ کی توجہ برسر اقتدار پارٹی کے من مانی کارستانیوں کی جانب مبذول کرتے ہوئے کہا کہ اقتدار کی طاقت کے دم پر بی جے ۔پی۔کے لوگ من مانی کر رہے ہیں سرکاری ایجنسیوں کا غلط استعمال کر رہے ہیں’ابھی حالیہ دنوں میں اک سماجی کارکن محترمہ تیستا سیتلواڈ جو گجرات فسادات کے مظلوموں کو انصاف دلوانے خاطر طویل قانونی لڑائی لڑ رہی ہے انھیں بھی گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا حسین دلوائی نے سپریم کورٹ سے گزارش کرتے ہوئے کہا ہے ۔وہ اس جانب بھی توجہ فرمائیں اور اسی طرح اودے پور کے واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اودے پور میں کنہیا لال قتل کا واقعہ اور اس پر دیدہ دلیری سے ویڈیو بناکر شوشل میڈیا پر لوڈ کرنا یہ اک دہشت گردانہ و بدبختانا اور ملک کے امن امان کو صدمہ پہنچا نے والا اقدام ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔اسلام کبھی بھی اس طرح کی اجازت نہیں دیتا اسلام امن کا پیغام دیتا ہے ۔ اسلام کے نزدیک اک انسان کا قتل ساری انسانیت کے قتل ہونے کے برابر ہے ۔ انہوں نے مسلمانوں اور خاص کر نوجوانوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہیکہ ملک میں امن وامان قائم کرنے میں اپنا تعاون پیش کریں ۔