10 متاثرہ ریاستوں کی صورتحال پر غور کیلئے چیف منسٹروں کے ساتھ امیت شاہ کا اجلاس
نئی دہلی۔26 اگست (سیاست ڈاٹ کام) وزیر داخلہ امیت شاہ نے نکسلائٹس کے خلاف جاری کارروائیوں کے علاوہ بائیں بازو کی انتہاپسندی کے متاثرہ علاقوں میں کئے جانے والے ترقیاتی اقدامات کا پیر کو یہاں منعقدہ اجلاس میں جائزہ لیا۔ نکسلائٹس کی سرگرمیوں سے متاثرہ 10 ریاستوں کے چیف منسٹر اور اعلی پولیس و سیول عہدیداروں کے لیے منعقدہ اجلاس میں متعدد ریاستوں کے چیف منسٹروں، نتیش کمار (بہار)، نوین پٹنائک (اڈیشہ)، یوگی آدتیہ ناتھ (اترپردیش)، کمل ناتھ (مدھیہ پردیش)، رگھویر داس (جھارکھنڈ)، بھوپیش باگمیل (چھتیس گڑھ) اور دوسروں نے شرکت کی۔ وزارت داخلہ کے ایک عہدیداروں نے کہا کہ وزیر داخلہ نکلائٹس سے متاثرہ علاقوں میں انتہاپسندوں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں اور متاثرہ علاقوں میں جاری ترقیاتی اقدامات کا جائزہ لیا۔ نیم فوجی فورسس اور وزارت داخلہ کے اعلی عہدیداروں نے بھی اس اجلاس میں شرکت کی۔ تین ماہ قبل امیت شاہ کے بحیثیت وزیر داخلہ ذمہ داری سنبھالنے کے بعد یہ اپنی نوعیت کا پہلا اجلاس تھا۔ مائونواز سرگرمیوں سے متاثرہ 10 ریاستوں میں چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ، اوڈیشہ، مغربی بنگال، بہار، مہاراشٹرا، تلنگانہ، آندھراپردیش، مدھیہ پردیش، اور اترپردیش شامل ہیں۔ وزارت داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق 2009-2013ء کے دوران مائونواز تشدد کے 8.782 واقعات پیش کرنے تھے جبکہ 2014-18 کے دوران یہ تعداد 1,321 تھی جو ماضی کے مقابلہ 60.4 فیصد کم ہے۔ 2009-2018ء کے دوران مائونواز تشدد کے تقریباً 310 واقعات میں 1,400 نکسلائٹس مارے گئے۔ رواں سال کے ابتدائی پانچ ماہ کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں پیش آئے واقعات میں 88 مائونواز ہلاک ہوگئے۔ مملکتی وزیر داخلہ جی کشن ریڈی نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ حکومت کی ثابت قدم پالیسی کے نتیجہ میں بائیں بازو کے تشدد اور علاقائی پھیلائو میں قابل لحاظ کمی ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ 2018ء کے دوران صرف 60 اضلاع میں ہی بائیں بازو انتہاپسندی کے تشدد کے واقعات پیش آئے۔ انہوں نے کہا کہ صرف 10 اصلاع مائونواز تشدد سے بری طرح متاثر ہیں۔ ان میں مجموعی تشدد کا دوتہائی حصہ ان ہی اضلاع میں درج کیا گیا۔