نیتن یاہو کی گرفتاری کے آئی سی سی وارنٹ کی حمایت

   

واشنگٹن، 26 جولائی (یو این آئی) امریکی کانگریس کے ڈیموکریٹ رکن رو کھنہ نے نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کے اس مؤقف کی حمایت کی ہے کہ اگر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو امریکہ آئیں تو بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے وارنٹ کے تناظر میں قانونی کارروائی پر غور کیا جانا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو بین الاقوامی قانون کا احترام کرتے ہوئے عدالت کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے ۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ رکن کانگریس رو کھنہ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر کسی شخص کے خلاف آئی سی سی نے گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا ہے تو امریکہ کو قانون کے مطابق کارروائی کرنی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو یا روسی صدر ولادیمیر پوتن جیسے افراد امریکی حدود میں داخل ہوں تو صدر کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مناسب کارروائی کی ہدایت دینی چاہیے ۔ رو کھنہ کا کہنا تھا کہ امریکہ کو آئی سی سی کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے کیونکہ یہ معاملہ صرف انسانی حقوق تک محدود نہیں بلکہ عالمی قوانین اور قواعد پر مبنی بین الاقوامی نظام سے بھی متعلق ہے۔ واضح رہے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت نے 2024میں غزہ جنگ کے تناظر میں مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر بنیامین نیتن یاہو کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا تھا، تاہم اسرائیل نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے آئی سی سی کے فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا۔
اس سے قبل نیویارک کے میئر ظہران ممدانی بھی کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے نیتن یاہو کی ممکنہ نیویارک آمد کی صورت میں گرفتاری کے قانونی امکانات کا جائزہ لیا تھا، تاہم بعد میں انہوں نے واضح کیا کہ نیویارک سٹی انتظامیہ کے پاس اس نوعیت کی کارروائی کا اختیار نہیں، البتہ وفاقی حکومت اس حوالے سے فیصلہ کر سکتی ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ نیتن یاہو کو امریکہ میں کسی صورت گرفتار نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی وزیر اعظم کو امریکہ کے دورے کے دوران کسی قانونی کارروائی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔