ریاض۔ 4 اکتوبر (ایجنسیز) سعودی عرب میں جاری بین الاقوامی سعودی فالکنز اینڈ ہنٹنگ نمائش کے افتتاحی نیلامی میں منگولیا کے دو شاہین مجموعی طور پر 5 لاکھ 50 ہزار سعودی ریال (تقریباً 1 لاکھ 47 ہزار ڈالر) میں فروخت ہوئے، جس سے مملکت میں شاہین بازی کے شوق کی مقبولیت اور ان پر بڑھتی ہوئی طلب کا اندازہ ہوتا ہے۔ نیلامی میں ایک کم عمر شاہین 1 لاکھ 50 ہزار ریال میں فروخت ہوا، جبکہ ایک بڑا شاہین کے لیے مقابلہ آرائی کے بعد 4 لاکھ ریال کی بولی لگی۔ نمائش میں مسلسل دوسری مرتبہ منگولیا کے شاہینوں کے لیے خصوصی حصہ مختص کیا گیا ہے، جو سعودی شاہین بازوں میں ان پرندوں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو ظاہر کرتا ہے۔ منگولین سیکر شاہین اپنے بڑے حجم، چوڑے پروں اور غیر معمولی برداشت کی وجہ سے خطے میں سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے شاہینوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کے پروں اور جسم کے رنگ بھی مختلف ہوتے ہیں، جو ہلکے رنگوں سے لے کرگہرے بھورے رنگ تک ہوسکتے ہیں۔ انفرادی خصوصیات بھی نیلامی میں شاہین کی قیمت پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ سعودی پریس ایجنسی کے مطابق منگولیا کے شاہین سخت موسمی حالات سے مطابقت پیدا کرنے اور تربیت کے لیے بہتر ردعمل دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے افزائش کرنے والوں اور شکاریوں میں ان کی قدر مزید بڑھی ہے۔ نمائش کے پہلے روز ہونے والی نمایاں فروخت نے گزشتہ برسوں کے مقابلے میں بھی اس تقریب کی مقبولیت کو برقرار رکھا ہے۔ شاہین بازی سعودی ثقافت اور ورثے میں گہری جڑیں رکھنے والی روایت ہے۔ نیلامی سے قبل شرکا کو شاہینوں کا قریب سے معائنہ کرنے کا موقع بھی فراہم کیا گیا، جبکہ سعودی عرب کے مختلف علاقوں اور بیرون ملک سے بھی شاہین بازی کے شوقین افراد نے نمائش میں شرکت کی۔ منتظمین کے مطابق یہ نمائش سعودی شاہین بازوں کو عالمی شاہین بازی کی برادری سے جوڑنے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم بن چکی ہے۔ سعودی عرب اور منگولیا کے درمیان شاہینوں کی تجارت کے حوالے سے تعلقات کئی دہائیوں پرانے ہیں۔ یہ سلسلہ 1990 کی دہائی میں اس وقت مضبوط ہوا جب سعودی عرب منگولیا سے برآمد کیے جانے والے سیکر شاہینوں کی بڑی منڈیوں میں شامل ہوگیا۔ انٹرنیشنل وائلڈ لائف کنسلٹنٹس لمیٹڈ کے مطابق سعودی عرب نے 1997 میں منگولیا سے 116 شاہین درآمد کیے تھے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان یہ تعلق گزشتہ تقریباً 3 دہائیوں میں مزید مستحکم ہوا ہے۔