درخت کاٹنے کی بجائے بچاؤ کے اقدامات کرنے ماہرین کا مشورہ
حیدرآباد13۔ڈسمبر(سیاست نیوز) ریاست میں کورونا س لاک ڈاؤن کے بعد نیم کے درختوں کے سوکھنے اور پتوں کے جھڑ جانے کی شکایات پر جنگلات اور دیگر متعلقہ محکمہ جات سے نیم کے درختوں کی نگہداشت کیلئے ادویات کا چھڑکاؤ کیا جا رہا تھا لیکن اب ایک سال بعد بیشتراضلاع اور دونوں شہروں میں نیم کے درختوں میں دوبارہ وہی بیماری رونما ہوئی ہے اور درخت سوکھ رہے ہیں جبکہ موجودہ موسم میں درخت پوری بہار پر ہوتے ہیں لیکن مخصوص کیڑوں کے سبب نیم کے درختوں میں اس بیماری کو دیکھتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ یہ کوئی مستقل نہیں بلکہ عارضی دور ہوتا ہے جس میں مخصوص درخت اس کا شکار ہوتے ہیں ۔ اس بیماری کو ڈائی بیاک ڈیزیس کہا جاتا ہے اور اس سے درختوںکو بچانے متعدد اقدامات کرنے ہوتے ہیں ۔ محکمہ جنگلات و ادارہ جات مقامی سے ادویات کے چھڑکاؤ کے ذریعہ انہیں بچایاجاسکتا ہے۔ درختوں کے سوکھنے اور پتوں کے رنگ تبدیل ہونے کے سبب ان درختوں کو کاٹا جانے لگا ہے لیکن حکومت کی نگرانی میں سرگرم سائنسدانوں کی ٹیم کا کہناہے کہ درختوں کو کاٹنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ انہیں بچایاجاسکتا ہے اور سابق میں بھی ان درختوں کو کیڑوں سے محفوظ رکھنے ادویات کے چھڑکاؤ کے ذریعہ محفوظ رکھا جاچکا ہے۔ سائنسدانوں کا کہناہے کہ ان درختوں کو کاٹنے پر اس قدر قوی اور مضبوط درخت دوبارہ تیار ہونا مشکل ہوتا ہے اسی لئے ان درختوں کو کاٹنے کی بجائے اس بات کا انتظار کیا جانا چاہئے کہ درخت جس حالت کا شکار ہیں وہ تبدیل ہوں۔پروفیسر جئے شنکر تلنگانہ اسٹیٹ اگریکلچر یونیورسٹی نے نیم کے درختوں کی صورتحال کا جائزہ لینے ماہرین کی کمیٹی تشکیل دی اور اس کے ذمہ داروں کی جانب سے جن مقامات پر نیم کے درختوں کے سوکھنے اور پتوں کے رنگ تبدیل ہونے کی شکایات ملی ہیں ان کے پانی و مٹی کے نمونوں کو حاصل کرکے ان کی جانچ کی جارہی ہے ۔ سائنسدانوں کے مطابق نیم نے درختوں کو خدشات کا شکار ہو کر کاٹنے سے اجتناب کا مشورہ دیا اور کہا ہے کہ ان پر دوبارہ بہار آسکتی ہے اسی لئے نگہداشت کی جانی چاہئے ۔م