مولانا ڈاکٹر سید اویس بخاری
اولاد اللہ کی طرف سے ایک بہترین نعمت ہے۔ اولاد کی تربیت والدین پر فرض ہے۔اولاد کی تربیت کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ بچوں کو نیک لوگوں کی صحبت میں رکھا جائے۔حضرت سیدنا علیؓ فرماتے ہیں کہ نہایت کمزوراورعاجزہے وہ شخص جو کسی کواپنادوست نہ بناسکے اور اس سے بھی زیادہ عاجز وہ شخص ہے جو پرانے دوستوں سے بھی ہاتھ دھوبیٹھے۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (اَلْاَخِلَّآئُ یَوْمَئِذٍ بَعْضُھُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلاَّ الْمُتَّقِیْنَ) ’’اس دن گہرے دوست بھی ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے سوائے پرہیز گاروں کے‘‘۔ حضرت مالک بن دینارؒ فرماتے ہیں کہ تم نیک لوگوں کے ساتھ پتھر منتقل کرو، یہ اس سے بہتر ہے کہ برے لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر حلوہ کھاؤ۔فارسی کا مشہورِ قول ہے:’’صحبت صالح ترا صالح کند و صحبت طالح ترا طالح کند‘‘۔ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولاد کے دوستوں اور ان کی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ اُن کے سوشیل میڈیا پر بھی نظر رکھے۔
نیکو کاروں کی صحبت اختیار کرنے میں بے شمار فوائد ہیں۔اُن کے پاس بیٹھنے سے علمی اور اخلاقی فوائد ملتے ہیں۔اور یہ نیک لوگوں کی دوستی کل قیامت کو بھی قائم رہے گی جبکہ باقی سب دوستیاں ختم ہوجائیں گی۔اسلام اور صاحب اسلام ﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں اچھا دوست وہ ہے جو اللہ کا مطیع وفرمانبردارہو،اس کے احکام کی پابندی کرنیوالا،منع کردہ کاموں سے بچنے والا،فرائض کو وقت پر ادا کرنے والا،سنن کی پابندی کرنے والا،اچھے اور اعلی اخلاق سے پیش آنے والا،صلہ رحمی کرنے والا،والدین سے حسن سلوک کرنیوالا اور لوگوںکواذیت دینے سے دور رہنے والا ہو جبکہ برا دوست اُسے کہا گیا جو اللہ عز وجل اور اس کے حبیب داور ﷺ کا باغی ہو،فرائض میں کوتاہی کرتا ہو ،حرام و مکروہات پر عمل کرنے والا ہو ، اللہ عز وجل کے قایم کردہ حدود کو پامال کرتا ہو۔ حضرت سیدنا ابو موسی اشعری ؓ سے مروی ہے کہ آقا کریم ﷺ نے اچھے دوست اور برے دوست کی مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ’’اچھے دوست اور برے دوست کی مثال خوشبو اُٹھانے والے اور بھٹی جھونکنے والے کی طرح ہے،خوشبو والا یا تو آپ کو ہدیہ میں خوشبو دے گایا آپ اس سے خرید لیں گے یا کم از کم اچھی خوشبو تو پائیں گے،جبکہ بھٹی جھونکنے والا آپ کے کپڑوں کو جلا دے گا یا کم از کم آپ اس سے بدبوپائیں گے۔‘‘حضور اکرم ﷺ نے اس مثال کے ذریعہ صحبت کے اثرات کوسمجھنے میں مدد ملے گی کہ جس طرح کستوری والے کے پاس بیٹھنے سے فائدہ ہی فائدہ ہے اسی طرح اچھی صحبت اختیار کرنے سے انسان خیر اور بھلائی میں رہتا ہے جبکہ بھٹی جھونکنے والے پاس بیٹھنے سے نقصان ہی نقصان ہے۔ بری صحبت اختیار کرنے سے انسان خسارہ میں ہی رہتا ہے۔
حضرت سیدنا نوح کے بیٹے نے بُروں کی صحبت اختیار کی تو اس کی وجہ سے اُس سے خاندانِ نبوت چھوٹ گیا۔اصحابِ کہف کے کتے نے چند روز نیکوں (اولیاء اللہ) کی صحبت اختیار کی تو آدمی بن گیا۔ ان دونوں واقعات کو قرآن مجید میں بہت خوبصورتی اور دلچسپی سے بیان کیا گیا ہے ۔یعنی بروں کی صحبت سے دامنِ نبوت ہاتھ سے چھوٹ گیا لیکن فقط چند دن اللہ کے ولیوں کی صحبت میں رہنے سے اللہ تعالیٰ نے کتے کے معاملہ کو بندوں کے معاملات میں شمار کر دیا۔ بے نمازیوں، گالیاں دینے والوں، فلمیں ڈرامے دیکھنے اور گانے باجے سننے والوں، جھوٹ، غیبت، چغلی، وعدہ خلافی کرنے والوں، چوروں، رشوت خوروں، شرابیوں، فاسقوں ، فاجروں نیز بدمذہبوں اور کافروں کی صحبت میں بیٹھنے سے بچنا چاہئے اور نیکو کار اور اولیاء و صالحین کی صحبت دین ، دنیا و آخرت میں فوز و فلاح کی ضامن ہے۔