سرینگر۔26 اگست (سیاست ڈاٹ کام) وادی کشمیر کے اکثر علاقوں میں اگرچہ کسی حد تک لائینڈ لائنس خدمات بحال ہوچکی ہیں لیکن ایسے علاقوں میں جہاں مواصلاتی پابندیاں برقرار ہیں وہاں انسانی بحران جیسی صورتحالی دیکھی جارہی ہے۔ 60 سالہ محمد ایوب خاں 17 اگست کو وسطی سرینگر کے علاقہ براری پورہ سکیدافار میں مبینہ طور پر آنسو گیس سینے میں اترجانے کے بعد دم گھٹنے کے سبب فوت ہوگئے۔ ان کے بھائی شبیر احمد خاں نے کہا کہ ان کی بہن بارہمولہ میں رہتی ہیں انہیں موت کے تین دن بعد پتہ چلا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایوب کی موت کے تین دن بعد ہم نے ایک رشتہ دار کو وہاں روانہ کرتے ہوئے اپنی بہن کو مطلع کیا تھا۔ جب حکام کی جانب سے پابندیوں میں نرمی پیدا کی گئی تھی شبیر احمد خاں نے کہا کہ ایسے بے شمار واقعات ہیں۔ ڈل گیٹ کے ساکن ایک اور شخص سہیل احمد نے کہا کہ مجھے اپنے چچا کے انتقال کی اطلاع چار دن بعد موصول ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے افسوس ہے کہ میں تدفین میں شرکت نہیں کرسکا۔ پنٹھاچوک کے ساکن ریاض احمد نے کہا کہ ان کے بھتیجہ کی موت کی اطلاع دو دن بعد موصول ہوئی تھی۔ میرا بھتیجہ پلوامہ میں تھا اس کی حالت ٹھیک نہیں تھی۔ وہ پولیس کی پابندیوں کے درمیان فوت ہوگیا۔ اس کا خاندان ہم سے رابطہ نہ کرسکا تھا۔ سرینگر ایرپورٹ پر اس وقت انتہائی دلسوز مناظر دیکھے گئے جب ایک شخص دو دن قبل وہاں اپنی والدہ کی حج سے واپسی پر انھیں گھر لانے کے لیے پہونچا تھا۔ لیکن انہیں اپنی حاجی ماں نہیں مل سکیں اور معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ وہ سعودی عرب میں ہی فوت ہوگئیں۔ تاہم وادی میں مواصلاتی پابندیوں کے سبب ورثاء کو مطلع نہیں کیا جاسکا تھا۔