بیجنگ : چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ‘وانگ وِن بِن’ نے کہا ہے کہ” روس۔یوکرین جنگ میں اسلحے کا بڑا ترین ماخذ امریکہ ہے”۔ترجمان وانگ نے بیجنگ میں معمول کی پریس کانفرنس میں ، چین کے روس کو اسلحہ اور ایمونیشن فراہم کرنے سے متعلق، امریکی دعوے کا جواب دیا ہے۔انہوں نے،صدر جو بائڈن کے دورہ کیف کے دوران یوکرین کے لئے 500 ملین ڈالر کی اضافی عسکری امداد کا اعلان کرنے کی، یاد دہانی کروائی اور کہا ہے کہ واشنگٹن کے “امن کا علمبردار” نہیں”فتنہ گر ” ہونے سے متعلق ضرورت سے زیادہ شواہد موجود ہیں”۔انہوں نے کہا ہے کہ “امریکہ، یوکرین جنگ میں، اسلحے کا سب سے بڑا ماخذ ہے۔ لیکن جب یہ،حقیقت کے بالکل برعکس، یہ دعوی کرتے ہیں کہ چین روس کو اسلحہ فراہم کرے گا تو انسان کو تجسس ہوتا ہے کہ آخر ان کے مقاصد کیا ہے۔ کیا ان کا ضمیر کا یہ برداشت کر پا رہا ہے کہ ایک طرف تو یہ دنیا میں امن و امان قائم کرنا چاہتے ہیں اور دوسری طرف ان کی دفاعی صنعتی کمپنیاں جیبیں بھرنے میں مصروف ہیں؟”وانگ نے کہا ہے کہ چین۔روس باہمی تعلقات”جامع اسٹریٹجک کوآرڈینیشن شراکت داری” تعلقات ہیں اور “اتحاد نہ بنانے”، “محاذ نہ کھولنے” اور “تیسرے فریق کو ہدف نہ بنانے” کے اصولوں پر استوار ہیں۔ ہم، روس کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے، چین پر امریکی دباو اور الزامات کوقبول نہیں کرتے”۔انہوں نے کہا ہے کہ امریکہ کو اپنے اعمال پر نگاہ ڈالنی چاہیے۔ جلتی پر تیل چھڑکنے اور جھڑپوں سے استفادہ کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ ہم افغانستان میں امریکہ کی، ‘آخری افغان کے خاتمے تک جنگ’، حکمت عملی کو دیکھ چکے ہیں۔ کیا اب یہ یوکرین میں بھی آخری یوکرینی تک جنگ کرنے کے خواہش مند ہیں؟”واضح رہے کہ امریکہ کے وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے امریکہ کے سی بی ایس ٹیلی ویڑن چینل کے لئے انٹرویو میں کہا تھا کہ امریکہ خفیہ ایجنسی کو خبر ملی ہے کہ یوکرین جنگ میں مدد کی خاطر چین روس کو اسلحے کی فراہمی پر غور کر رہا ہے۔بلنکن نے کہا تھا کہ چینی فرمیں حالِ حاضر میں روس دفاعی صنعت کو “غیر مہلک” تعاون فراہم کر رہی ہیں۔ تازہ معلومات کے مطابق بیجنگ انتظامیہ براہ راست ” مہلک” اسلحہ اور ایمونیشن بھی فراہم کر سکتی ہے۔بلنکن نے کہا تھا کہ” چین کے روس کو اسلحہ فراہم کرنے کے صورت میں چین کے ساتھ ہمارے باہمی تعلقات میں پیچیدہ مسائل پیدا کر سکتے ہیں”۔