تلنگانہ ہائیکورٹ کے دو علحدہ مقدمات میں متضاد فیصلے
حیدرآباد۔13۔جون(سیاست نیوز) واٹس ایپ اور سوشل میڈیا پر پوسٹ کئے جانے والا مواد کب جرم بن جائے کوئی کہہ نہیں سکتا کیونکہ تلنگانہ ہائی کورٹ نے سوشل میڈیا بالخصوص واٹس ایپ پر پوسٹ کئے گئے مواد کے سلسلہ میں دو علحدہ مقدمات میں دو متضاد فیصلوں کے ذریعہ جو صورتحال پیدا کی ہے اس کے نتیجہ میں یہ کہنا مشکل ہوگیا ہے۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے بی آر ایس قائد کے خلاف پوسٹ کئے گئے مواد پر کاروائی کے سلسلہ میں جاری کئے گئے احکامات میں کہا کہ جب تضحیک‘ تذلیل اور بدنامی کا باعث بننے والا مواد موجود ہے تو ایسی صورت میں کاروائی قانونی فوجداری کاروائی کی گنجائش موجود ہے۔جسٹس تروملا دیوی ایڈا نے اس مقدمہ کی سماعت کے دوران کہا کہ جب مواد سے متعلق ثبوت و شواہد موجود ہیں تو ابتدائی تحقیقات کے دوران مقدمہ کو خارج نہیں کیا جاسکتا بلکہ تحقیقات کرتے ہوئے حقائق سے آگہی حاصل کرنے کے بعد ہی کاروائی ممکن ہوسکتی ہے۔ بتایاجاتاہے کہ درخواست گذار نے بی آر ایس قائد کے خلاف پوسٹ کئے گئے مواد میں ملزم بناتے ہوئے درج کئے گئے مقدمہ کے خلاف تلنگانہ ہائی کورٹ سے رجوع ہوتے ہوئے مذکورہ مقدمہ کو خارج کرنے کی اپیل کی تھی جسے عدالت نے مسترد کردیا۔جسٹس ایڈا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم واٹس ایپ پر پوسٹ کئے گئے قابل اعتراض مواد پر کی جانے والی کاروائی پر فوری روک لگانے سے انکار کردیا جبکہ دو یوم قبل تلنگانہ ہائی کورٹ نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کئے جانے والے مواد کے سلسلہ میں مقدمہ درج کئے جانے کے معاملہ میں رہنمایانہ خطوط کی تیاری اور اس کے بعد ہی مقدمہ درج کرنے کی ہدایا ت جاری کی تھی اور مقدمہ میں کسی بھی طرح کی پیشرفت سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ سوشل میڈیا پر پوسٹ کئے جانے والے مواد کو اظہار خیال کی آزادی پر محمول کرتے ہوئے اس پر کسی بھی طرح کی کاروائی نہ کرنے کی حمایت کی تھی۔ تلنگانہ ہائی کورٹ کے دو متضاد فیصلوں کے بعد اب اس صورتحال سے نمٹنے کے سلسلہ میں قانونی ماہرین کی بھی متضاد رائے پائی جانے لگی ہے۔3