واٹس ایپ پر موصول ہونے والی خبروں کو بناء تحقیق کے تشہیر کرنا گناہ

   


بے بنیاد خبروں کو آگے بڑھانے سے نفرت ، گمراہی میں اضافہ متوقع
حیدرآباد۔7۔نومبر۔(سیاست نیوز) واٹس ایپ پر موصول ہونے والی خبروں کو بناء تحقیق کے آگے بڑھانا اور ان کی تشہیر کرنا کسی گناہ سے کم نہیں کیونکہ دین اسلام نے بلا تحقیق اطلاعات کو دوسروں تک پہنچانے سے منع کیا گیا ہے۔واٹس ایپ پر پھیلائی جانے والی بے بنیاد خبروں کو آگے بڑھانے کے مرتکب ہونے والے دین کی نظر میں گناہگار ہوسکتے ہیں اسی لئے کسی بھی خبر کو بغیر تحقیق کے وائرل کرنے سے گریز کیا جانا چاہئے کیونکہ واٹس ایپ پر پھیلائی جانے والی بیشتر خبریں کسی کو ذاتی طور پر نقصان پہنچانے کے علاوہ مفادات حاصلہ پر مبنی ہوتی ہیں اور یہ خبریں دراصل ذہن سازی کے لئے بھی استعمال کی جاتی ہے۔حالیہ عرصہ میں واٹس ایپ یونیورسٹی کی اصطلاح استعمال کی جانے لگی تھی اور ب کبھی انتخابات قریب آتے ہیں تو اس واٹس ایپ یونیورسٹی کی سرگرمیاں تیز ہوجاتی ہیں اور بے بنیاد خبروں کو پھیلاتے ہوئے فائدہ حاصل کرنے والوں کی جانب سے ایسی خبروں کی ترسیل کو تیز کردیا جاتا ہے جو منافرت پھیلانے والی ہوتی ہیں۔واٹس ایپ یونیورسٹی کے ذریعہ پھیلائی جانے والی خبروں کو آگے بڑھانے کے بجائے ان کی تحقیق کے بعد ہی ان پر تبصرہ یا انہیں کسی کو بھیجنا چاہئے کیونکہ ایسی خبریں نہ صرف گمراہی پھیلانے کا سبب بنتی ہیں بلکہ بغیر تحقیق کے آگے بھیجنے والے کو گناہگار بنانے کی بھی مؤجب بننے لگتی ہیں۔ آج کل خبر کو آگے روانہ کرنے کے لئے ایک سوال ’کیا یہ صحیح ہے‘؟ کے ساتھ آگے بھیج دیا جاتا ہے لیکن اس طرح کے سوال کے ساتھ غیر ذمہ دار لوگوں تک یہ خبر پہنچانا بھی دشوار کن ہوتا ہے کیونکہ اس سوال کے ساتھ خبر کو دیکھنے کے لئے مجبور کیا جارہا ہے۔م