سابق وزیراعظم کی این ڈی ٹی وی کے ’زوم ‘ پر بغاوت کے دوران بیوہ ہوئی خواتین سے بات چیت
عبوری حکومت کیلئے شیخ حسینہ کی حوالگی اولین ترجیح
ڈھاکہ / نئی دہلی : بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے وطن واپسی کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ واپس آئیں گی اور ’بدلہ لیں گی۔‘دوسری جانب بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم کی حوالگی کو یقینی بنانا اس کی اوّلین ترجیح ہے۔این ڈی ٹی وی کے مطابق شیخ حسینہ واجد نے پیر کو آن لائن ویڈیو کالنگ پلیٹ فارم زوم پر گزشتہ جولائی میں طلبہ کی بغاوت کے دوران ہلاک ہونے والے چار پولیس اہلکاروں کی بیواؤں کے ساتھ بات چیت کی۔گفتگو کے دوران معزول رہنما نے ان سے دِلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ قتل مجھے اقتدار سے ہٹانے کی ان کی پیچیدہ سازش کا حصہ تھے۔ میں واپس آ کر اپنے پولیس اہلکاروں کی موت کا بدلہ لوں گی۔‘انہوں نے محمد یونس کو ’مشتعل ہجوم کا سربراہ‘ قرار دیتے ہوئے ان پر ملک میں ’دہشت گردوں‘ کو کْھلی چْھوٹ دینے اور ’لاقانونیت‘ کو فروغ دینے کا الزام عائد کیا۔محمد یونس پر تمام انکوائری کمیٹیوں کو تحلیل کرنے کا الزام لگاتے ہوئے شیخ حسینہ نے کہا کہ عبوری حکومت نے لوگوں کو مارنے کے لیے دہشت گردوں کو کْھلی چھوٹ دی۔ وہ بنگلہ دیش کو تباہ کر رہے ہیں۔‘انہوں نے الزام لگایا کہ جب ان کی حکومت کا تختہ اْلٹا گیا تو وہ ایک قاتلانہ حملے میں ’بال بال بچیں۔میں واپس آؤں گی اور آپ سب کے لیے انصاف کو یقینی بناؤں گی۔‘اپنے خطاب کے دوران شیخ حسینہ کی آنکھیں ڈْبڈبا گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ 450 کے قریب پولیس سٹیشنوں کو بھی آگ لگائی گئی۔ ’یہ ہلاکتیں محمد یونس کی طرف سے رچائی گئی ایک بڑی سازش کا حصہ ہیں۔‘سابق وزیراعظم نے کہا کہ ’ہجوم کے سربراہ محمد یونس اور دیگر کو بنگلہ دیش کی سرزمین پر انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔‘انہوں نے مزید کہا کہ ’اس حکومت کو جانا ہوگا جس نے اقتدار پر قبضہ کیا ہے۔ لوگوں کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا۔ ان کے (محمد یونس) کے دور میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ عوام انہیں اقتدار سے باہر کر دیں۔‘شیخ حسینہ واجد کی زوم پر بات چیت کے فوراً بعد بنگلہ دیش کی عبوری انتظامیہ نے زور دیا کہ سابق وزیراعظم کی انڈیا سے حوالگی ان کی اوّلین ترجیح ہے۔