ورشپ ایکٹ معاملہ، ایم پی اقراحسن کی سپریم کورٹ میں عرضی

   

نئی دہلی: یو پی کے کیرانہ سے سماج وادی پارٹی کی رکن پارلیمنٹ اقرا چودھری کیلئے راحت کی خبر ہے ۔ سپریم کورٹ نے کیرانہ سے ایس پی ایم پی اقرا چودھری کی پٹیشن کو عبادت گاہوں کے قانون کی حمایت میں پہلے سے دائر دیگر درخواستوں کے ساتھ جوڑنے کی اجازت دے دی ۔ عدالت نے تبصرہ کیا کہ اس طرح کی درخواستیں ہر ہفتہ دائر کی جارہی ہیں ۔ اقرا حسن چودھری نے مطالبہ کیا ہے کہ اس قانون کے حوالے سے دائر درخواستوں میں ان کے موقف کی بھی سماعت ہو ۔ چیف جٹس سنجیو کھنٹہ ، جسٹس سنجے کمار اور جسٹس کے وی وشواناتھن کی بنچ اس کیس کی سماعت کرے گی۔ پچھلی سماعت میں سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے چار ہفتو ں کے اندر اپنا جواب داخل کرنے کو کہا تھا ۔ اس کے علاوہ مندر مسجد تنازعہ میں ملک کی دیگر عدالتوں میں زیرالتواء مقدمات میں کوئی بھی فیصلہ دینے پر پابندی عائد کردی گئی ۔اس معاملہ میں کئی عرضیاں دائر کی گئی ہیں جن میں وشوبھدرپجاری پروہت مہاسنگھ ، ڈاکٹر سبرامنیم سوامی ، اشونی اپادھیائے ، اویسی ، کانگریس پارٹی ، سی پی ایم ، آر جے ڈی ، گیانواپی مسجد کمیٹی ، متھر شاہی عیدگاہ کمیٹی اور جمعیت علماء ہند کی درخواستیں شامل ہیں ۔ واضح ہو کہ جہاں ایک پارٹی نے اس قانون کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے ، وہیں جمعیت علمائے ہند ، کانگریس ، سی پی ایم ، اویسی ، آر جے ڈی سمیت کئی جماعتوں نے اس کی حمایت میں عرضی داخل کی ہے ۔ عبادگاہوں کے قانون 1991 کو ہندو فریق نے 2020 میں سپریم کورٹ میںچیلنج کیا ہے جبکہ اس کی حمایت میں جمعیت علماء ہند نے 2022میں سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی ہے۔