ورلڈ مانومنٹس فنڈ کے تحت موسیٰ ندی راہداری کی تاریخی عمارتوں کا تحفظ

   

2025 منصوبہ کی اجرائی، عثمانیہ ہاسپٹل، سٹی کالج اور ہائی کورٹ کی عمارتیں شامل

حیدرآباد۔/16 جنوری، ( سیاست نیوز) ورلڈ مانومنٹس واچ نے موسیٰ ندی کے کنارے پر واقع تاریخی عمارتوں کے تحفظ کا فیصلہ کیا ہے۔ ورلڈ مانومنٹس واچ کی جانب سے دنیا بھر میں تاریخی اور ہیرٹیج عمارتوں کے تحفظ کی مہم چلائی جاتی ہے اور واچ فنڈ کے ذریعہ پراجکٹس کی تکمیل عمل میں آتی ہے۔ ورلڈ مانومنٹس واچ نے موسیٰ ندی کی راہداری پر واقع جن عمارتوں کے تحفظ کو اپنے منصوبہ میں شامل کیا ہے ان میں ہائی کورٹ، اسٹیٹ سنٹرل لائبریری، عثمانیہ ہاسپٹل، سٹی کالج اور سابق برٹش ریسیڈنسی جو موجودہ ویمنس یونیورسٹی ہے کی عمارتیں شامل ہیں۔ ورلڈ مانومنٹس فنڈ کے تحت 2025 ورلڈ مانومنٹس واچ کے منصوبہ کو جاری کیا گیا۔ منصوبہ کے مطابق موسیٰ ندی راہداری پر موجود یہ تاریخی عمارتیں ماحولیاتی آلودگی سے متاثر ہیں۔ 1908 میں موسیٰ ندی میں طغیانی کے بعد علاقہ میں کئی تاریخی عمارتیں منظر عام پر آئیں۔ ادارہ نے اپنی رپورٹ میں شہر میں ماحولیاتی آلودگی کا حوالہ دیا۔ عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کی عمارت کی تعمیر 1925 میں مکمل ہوئی اور تعمیر میں غیر معمولی آرکیٹکچر کے ذریعہ عمارت کی خوبصورتی میں اضافہ ہوا ہے، یہ ہندوستان کا قدیم ترین ہاسپٹل ہے۔ رپورٹ میں موسیٰ ندی راہداری پر موجود تاریخی عمارتوں کو ندی کی خوبصورتی میں اضافہ کا سبب قرار دیا گیا ہے۔ ورلڈ مانومنٹس واچ نے 2025 کے تحت جن تاریخی عمارتوں کے تحفظ کا فیصلہ کیا ہے ان میں عثمانیہ ہاسپٹل کی عمارت اہمیت کی حامل ہے۔ ادارہ کی جانب سے واچ فنڈ میں 30 جون تک فنڈز قبول کئے جائیں گے۔ دنیا بھر میں افراد اور اداروں سے فنڈز حاصل کئے جاتے ہیں۔ ورلڈ مانومنٹس فنڈ کے تحت 350 مقامات کیلئے 120 ملین ڈالر تاحال خرچ کئے جاچکے ہیں۔ ادارہ کا مقصد دنیا بھر میں تاریخی اور ہیرٹیج عمارتوں کا تحفظ کرنا ہے۔ ورلڈ مانومنٹس پراجکٹ کے تحت ہندوستان کے علاوہ دیگر ممالک کو شامل کیا گیا۔ 30 سے زائد ممالک میں ادارہ کے ماہرین سرگرم ہیں۔ 1996 میں پراجکٹ کا آغاز ہوا۔ ورلڈ مانومنٹس فنڈ کے صدر اور سی ای او بی ڈی منٹلور اور وائس پریسیڈنٹ آف پروگرامس جوناتھن ایس بِیل نے 2025 واچ سائیٹس کا ورچول اعلان کیا جس کے تحت تاریخی اور ہیرٹیج عمارتوں کے تحفظ کی منصوبہ بندی کی جائے گی۔1