ورنگل میں سرکاری اراضی پر تنازعہ، جھڑپ میں کئی افراد زخمی

   

حیدرآباد۔3۔ جون (سیاست نیوز) ورنگل ضلع میں سرکاری اراضی پر جھونپڑیں کی تعمیر کے سلسلہ میں پیدا شدہ تنازعہ میں دوگروپس آپس میں متصادم ہوگئے۔ حملہ میں کئی افراد زخمی ہوئے جن میں سے ایک کو ایم جی ایم ہاسپٹل میں شریک کیا گیا ۔ مامنور پولیس اسٹیشن کے حدود میں سرکاری اراضی پر جھونٖپڑیوں کی تعمیر کا کام جاری تھا ، اس سلسلہ میں مقامی اور غیر مقامی افراد کے درمیان جھڑپ ہوگئی ۔ حملہ میں 4 آٹو رکشا اور 3 گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔ رمیش نامی میوہ فروش حملہ میں زخمی ہوگیا جسے ہاسپٹل سے رجوع کیا گیا۔ اسی دوران سی پی آئی ایم کے ضلع سکریٹری سی ایچ رنگیا نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے مقامی روڈی شیٹرس کو غریبوں پر حملہ کیلئے اکسایا جو 8 مئی سے جھونپڑیوں میں مقیم تھے۔ انہوں نے کہا کہ 45 ایکر اراضی پر تقریباً 7 ہزار غریب افراد اپنے بچوں کے ساتھ مقیم ہیں اور وہ مکانات کیلئے پلاٹس الاٹ کرنے کی مانگ کر رہے ہیں۔ بے گھر غریبوں کو حکومت کی جانب سے اراضی الاٹ کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ رنگیا نے بتایا کہ سرکاری اراضی پر قابض سیاستدانوں نے پولیس پر اثر انداز ہوتے ہوئے غریبوں کو نشانہ بنایا تاکہ اراضی کا قبضہ حاصل کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے سادہ لباس میں غریبوں پر حملہ کیا۔ اسسٹنٹ کمشنر پولیس نریش کمار نے حملہ میں پولیس کے رول کی تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ تصادم کا واقعہ مقامی افراد اور سی پی آئی ایم کے حامیوں کے درمیان ہوا۔ر