چیف منسٹر کی جانب سے سروے ،الیکشن سے قبل امیدواروں کے بارے میں کے سی آر کی توجہ
حیدرآباد۔/15 نومبر، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اسمبلی کی باقی 14 ماہ کی میعاد میں ارکان اسمبلی کی کارکردگی پر کڑی نظر رکھنے کیلئے مختلف سروے کا اہتمام کیا۔ سروے رپورٹ کی بنیاد پر ارکان اسمبلی کو دوبارہ ٹکٹ کا فیصلہ کیا جائے گا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق سروے میں بیشتر ارکان اسمبلی کے بارے میں عوام سے منفی رائے حاصل ہوئی ہے۔ چیف منسٹر نے سروے رپورٹ پر ناراضگی جتائی جس میں کہا گیا ہے کہ بیشتر ارکان اسمبلی اپنے حلقہ جات کو نظرانداز کرتے ہوئے زیادہ تر وقت حیدرآباد میں گذارتے ہیں۔ عوامی مسائل کی یکسوئی اور عوام سے ربط میں رہنے کے بجائے حیدرآباد میں رہ کر اپنی تجارتی سرگرمیوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ چیف منسٹر نے پارٹی ارکان اسمبلی کو بارہا اس بات کی ہدایت دی تھی کہ وہ زیادہ تر وقت اپنے حلقہ جات میں گذاریں لیکن سروے کے مطابق ارکان اسمبلی اور ارکان پارلیمنٹ کی قابل لحاظ تعداد کی غیر موجودگی سے عوام میں ناراضگی پائی جاتی ہے۔ اسمبلی کے عام انتخابات کیلئے ایک سال باقی ہے اور چیف منسٹر نے ابھی سے امیدواروں کے انتخاب کے سلسلہ میں تیاری شروع کرتے ہوئے عوامی رائے حاصل کرنا شروع کردیا ہے اس کے لئے بعض نامور اداروں کے ذریعہ سروے کا اہتمام کیا گیا۔ سروے میں بتایا گیا کہ ارکان اسمبلی نے اپنے رشتہ داروں کو اسمبلی حلقوں کا انچارج مقرر کردیا ہے اور ارکان اسمبلی کے رشتہ دار، دوست احباب یا پھر ان کے بااعتماد افراد ترقیاتی کاموں کی نگرانی کررہے ہیں۔ عوامی مسائل کی سماعت اور ان سے درخواستوں کے حصول کیلئے عوامی نمائندے دستیاب نہیں ہیں جس سے پارٹی کے خلاف عوامی رجحان میں اضافہ کا اندیشہ ہے۔ سروے کے مطابق عوام میں یہ تاثر پیدا ہونے لگا ہے کہ رکن اسمبلی کے رشتہ دار حلقہ پر کنٹرول کررہے ہیں۔ ارکان اسمبلی کے علاوہ وزراء کے بارے میں بھی سروے میں اسی طرح کے انکشافات آئے ہیں۔ وزراء کی موجودگی کے تعلق سے بعض رعایتیں دی جاسکتی ہیں کیونکہ انہیں سرکاری کام کاج کیلئے حیدرآباد میں رہنا ضروری ہوتا ہے پھر بھی چیف منسٹر نے وزراء کو پابند کیا تھا کہ وہ ہفتہ میں کم از کم دو دن اپنے حلقہ جات میں قیام کریں۔ اضلاع سے تعلق رکھنے والے عوام کو اپنے مسائل کے حل کیلئے حیدرآباد پہنچنے پر اس لئے بھی دشواریوں کا سامنا ہے کیونکہ حیدرآباد میں مستقل سکریٹریٹ نہیں ہے اور وزراء کے دفاتر اور محکمہ جاتی عہدیداروں کے آفس شہر کے الگ الگ مقامات پر ہیں۔ چیف منسٹر بتایا جاتا ہے کہ الیکشن سے 6 ماہ قبل ایک اور سروے کا اہتمام کریں گے جس کی بنیاد پر امیدواروں کا انتخاب ہوگا۔ر