وزیراعظم مودی کی 7 ریاستوں کے چیف منسٹرس سے فون پر بات چیت

,

   

آندھراپردیش اور تلنگانہ بھی شامل ، سیلاب اور کورونا وائرس وباء پر تبادلہ خیال

نئی دہلی : وزیراعظم نریندر مودی نے 7 ریاستوں کے چیف منسٹرس سے آج فون پر بات چیت کی اور کورونا وائرس وباء کے علاوہ سیلاب کی صورتحال کا جائزہ لیا ۔ وزیراعظم نے بہار ، آسام ، آندھراپردیش ، تلنگانہ ، ٹاملناڈو ، ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ کے چیف منسٹرس سے بات چیت کی ۔ آسام اور بہار میں سیلاب کی صورتحال انتہائی سنگین ہے ۔ ہر سال مانسون کے دوران ان ریاستوں میں سیلاب کے قہر ہوتا ہے ۔ آسام کے 26 اضلاع کے تقریباً 28 لاکھ افراد سیلاب سے متاثر ہیں ۔ ریاست میں 1.18 لاکھ ہیکٹر اراضی پر کھڑی فصلیں زیرآب آگئی ہیں ۔ دریا برہم پتر میں کئی مقامات پر پانی خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہا ہے ۔ 649 ریلیف کیمپس میں 48,000 افراد کو پناہ دی گئی ہے ۔ آسام کے مشہور قاضی رنگا نیشنل پارک میں سیلاب کا پانی داخل ہونے سے کئی جانور فوت ہوچکے ہیں ۔ آسام میں سیلاب سے تاحال 84 افراد فوت ہوچکے ہیں ۔ وزیراعظم نے جن ریاستوں کے چیف منسٹرس سے آج بات چیت کی ان میں سیلاب کی تباہ کاریاں ہیں یا کورونا وائرس کی وباء کے باعث صورتحال سنگین ہوگئی ہے ۔ ٹاملناڈو کورونا وائرس سے متاثرہ ریاستوں میں شامل ہے ۔ بہار ، آندھراپردیش اور تلنگانہ میں بھی کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔ بہار میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 25 ہزار سے زائد ہے جہاں 102 افراد کی اس وباء سے موت ہوچکی ہے ۔ آسام کے چیف منسٹر سربانندا سونووال سے بات چیت کے دوران وزیراعظم مودی نے سیلاب کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے مرکزی حکومت کی جانب سے بھرپور تعاون کا تیقن دیا ہے ۔وزیراعظم نے آئیل انڈیا کے باغ جان گیس کنویں میں /9 جون کو لگی آگ کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا ۔ وزیراعظم نے آسام میں سیلاب کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور عوام سے ہمدردی کا اظہار کیا ۔ آسام میں کورونا وائرس کے تقریباً 23 ہزار مریض ہیں ۔ مودی نے اتراکھنڈ کے چیف منسٹر تریویندرا سنگھ راوت سے بھی بات چیت کی اور کورونا وائرس سے متاثرہ فوجی دستوں سے متعلق معلومات حاصل کیں ۔ سیلاب کے باعث آسام کے علاوہ پڑوسی ملک نیپال میں بڑی تباہ کاریاں ہوئی ہیں ۔ دریائے برہماپترا کے خطرے کے نشان سے اوپر بہنے کے نتیجہ میں تبت ، ہندوستان اور بنگلہ دیش میں اس کا اثر دیکھا جارہا ہے جس سے نہ صرف فصلوں کو نقصان پہونچا ہے بلکہ مٹی کے تودے کھسکنے سے 4 ملین سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں ۔