وزیراعظم کا مسلمانوں کے خلاف غیر جمہوری الفاظ کا استعمال افسوسناک

   

بی جے پی حکومت کے خلاف عوامی شعور بیداری ، پروفیسر کودنڈا رام ، پروفیسر ہرگوپال اور دیگر جہدکاروں کی مہم
حیدرآباد۔2مئی(سیاست نیوز) تلنگانہ پبلک جوائنٹ ایکشن کمیٹی( ٹی پی جے اے سی ) کی جانب سے تلنگانہ بھر میں بی جے پی حکومت کے خلاف عوام میںشعور بیداری کے مقصد سے ایک یاترا شروعات کی جارہی ہے ۔ جس کا مقصد تلنگانہ کی عوام میں مودی حکومت کی ناکامیوں کے متعلق شعور بیدار کرنا ہے ۔ 2مئی سے شروع ہونے والی اس یاترا کے پوسٹرس او رپمفلٹس کی اجرائی بشیر باغ پریس کلب میں عمل میں آئی۔ اس موقع پر تلنگانہ جنا سمیتی کے سربراہ پروفیسر کودنڈارام‘ ٹی پی جے اے سی قومی کنونیر پروفیسر ہرا گوپال ‘ سماجی جہدکار اور دائیں باز و لیڈر راما ملکوٹے ‘ پروفیسر سوکمار‘ کویتا‘ این سرینواس‘ روی چندرا‘ کروناکر دیشپانڈے کے علاوہ مختلف رضاکارانہ تنظیموں سے وابستہ جہدکار بھی موجود تھے۔بعدازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے پروفیسر کودنڈارام نے کہاکہ پچھلے د س سال میں جس قسم کے حالات قومی سطح پر رونما ہوئے ہیں اس پر ہماری ذمہ داریوں میںکافی اضافہ ہوجاتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ سیاسی جماعتوں کی جدوجہد الگ ہے اور سیول سوسائٹی کی مجوزہ لوک سبھا انتخابات میں حصہ داری لازمی ہے ۔ کودنڈارام نے کہاکہ مودی کی دس سال کی حکومت میںحالات بگڑتے گئے ‘ آسمان کو چھوتی مہنگائی‘ پکوان گیس ‘ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ اور پھر بے روزگاری بھی بڑھ گئی ہے۔ آمدنی میں اگر تیس فیصد اضافہ ہوا ہے تو مہنگائی میں ساٹھ فیصد اضافہ ہوا ہے ۔غریب مزید غربت کا شکار ہوئے ہیں تو وہیں دولت مندوں کی دولت میں اضافہ ہوا ہے ۔کودنڈارام نے کہاکہ اگر ارب پتیو ںکی تعداد ملک میں ساٹھ تھی تو وہ بڑھ کر اب ایک سو ساٹھ ہوگئی ہے جس کا ملک کی پچیس فیصد دولت پر قبضہ ہے۔ انہو ںنے کہاکہ ملک کی ستر کروڑ عوام پریشان حال ہے ۔غریب اورمتوسط طبقہ کے درمیان کا فرق ختم ہوگیاہے۔ انہوں نے کہاکہ اس پر سوال اٹھانے والوں کو غدار قراردیتے ہوئے اس پر کاروائیاں کی جاتی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ آج کل تو دستور بدلنے کی بات کی جارہی ہے ۔ انہوںنے خدشہ ظاہر کیاکہ دستور بدلنے پر انہیں ملک کی املاک کو اپنی مرضی سے تقسیم کا اختیار حاصل ہوجائیگا جو ملک اور یہاں کی عوام کے لئے ایک مشکل ترین بات ہوگی ۔کودنڈارام نے کہاکہ ان ساری باتوں کو روکنے کے لئے ہمیں متحرک ہونا ہے اور اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کرنا ہوگا۔انہوں نے کہاکہ ووٹ کی طاقت سے حکومت کو بدلنے کاکام کرنا ہوگا۔ انہو ںنے کہاکہ دستور اور جمہوریت کو بچانے ‘ بی جے پی کو ہرانے کے لئے تلنگانہ کی عوام کو چاہئے کہ وہ کانگریس کے حق میںاپنے ووٹ کا استعمال کرے۔پروفیسر ہرا گوپال نے افسوس کا اظہار کیاکہ ملک کے اعلی عہدے پرفائزہ شخص (وزیراعظم نریندر مودی ) اپنی تقریر میں مسلمانوں کے متعلق غیرجمہوری الفاظ کااستعمال کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سیاست کی اس قدر نچلی سطح انہوں نے کبھی نہیںدیکھی۔پروفیسر ہرا گوپال نے کہاکہ حال ہی میںکاکتیہ یونیورسٹی ورنگل میں کچھ دانشوران ‘ شاعر اور انقلابی گیت کاروں کے پروگرام میں اے بی وی پی کے کارکنوں نے گھس کر توڑ پھوڑ مچائی اور نامور انقلابی شاعروں اور گیت کاروں کے ساتھ بھی مارپیٹ کی ۔پروفیسر ہرا گوپال نے کہاکہ اگر اے بی وی پی کو اعتراض تھا تو وہ پولیس سے رجوع ہوتے اور شکایت کرتے مگر قانون ہاتھ میںلینے کی کیاضرورت تھی۔ انہوں نے کہاکہ ملک بھر میںاسی طرح کا ماحول ہے ۔ کوئی بھی اپنی آواز بلند نہیں کرسکتا ۔ انہوں نے کہاکہ سماج کے سامنے فی الحال ایک بڑا سوال ہے کہ ملک میںجمہوریت اور آئین باقی رہے گا یا نہیںرہے گا۔انہوں نے کہاکہ اگر ملک میں جمہوریت کو ختم کرکے فسطائیت عام ہوجائیگی تو ملک کی عوام کاکیا ہوگا ؟۔ہراگوپال نے کہاکہ پچھلے دس سال میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے لوگ اقلیتیں ہیں۔ دلتوں کوبھی نہیںبخشا گیا او رخواتین بھی مسلسل مظالم کاشکار ہوتی رہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ دستور ہمیں مذہب کے نام پر تقسیم کرکے امتیاز ی سلوک کی ہر گز اجازت نہیںدیتاہے۔پروفیسر ہرا گوپال نے کہاکہ اسی وجہہ سے پچھلے اسمبلی انتخابات میں اور اب لوک سبھا انتخابات میں سیول سوسائٹی عوام تک پہنچنے اور انہیں حقائق سے واقف کروانے کی ذمہ داری اٹھائی ہے ۔اگلے دس دنوں تک تلنگانہ کے کونے کونے میںجائیںگے اور عوام کے سامنے بی جے پی کا حقیقی چہرہ لانے کاکام کیاجائیگا۔راما مالکوٹے نے عصمت ریزی کرنے والوں کی پشت پناہی کرنے کا وزیراعظم نریندر مودی پر الزام عائد کیا۔انہوں نے کہاکہ دو قسم کی بدعنوانی معاشرے میںپائی جاتی ہے ۔ ایک بدعنوانی مالی تغلب پر مشتمل ہے تودوسری بدعنوانی اخلاقی گراوٹ ہے اور اخلاقی بدعنوانی ثبوت وزیراعظم نریندر مودی نے کرناٹک میںچار سو سے زائد خواتین کی عصمت ریزی کے ملزم کی پشت پناہی کے ذریعہ دیاہے۔ انہوں نے کہاکہ ملک میںجمہوری اصول پامال کردئے گئے ہیںاور دستور کو ختم کرنے کی مسلسل کوشش کی جارہی ہے ۔ انہوں نے مزیدکہاکہ سیول سوسائٹی اس کے خلاف کمر بستہ ہے اور اگلے د س دنوں تک تلنگانہ کے سارے اضلاع کو دورہ کرتے ہوئے عوام میں بی جے پی کی ناکامیوں کے متعلق عوام میںشعور بیدار کیاجائیگا۔