بی جے پی میں اختلافات کا واضح اشارہ، ایم ایل اے گوشہ محل پہلے ہی مستعفی ہوچکے ہیں
حیدرآباد۔9۔ مئی ۔ (سیاست نیوز) وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ کے پیش نظر شہر حیدرآباد میں لگائے گئے ہورڈنگس اور بیانرس پر رکن اسمبلی گوشہ محل راجہ سنگھ کی تصاویر بھارتیہ جنتا پارٹی میں پائے جانے والے اختلافات کو واضح کرتی ہے کیونکہ رکن اسمبلی گوشہ محل بھارتیہ جنتا پارٹی سے استعفیٰ دے چکے ہیں لیکن اس کے باوجود وزیر اعظم نریندر مودی کے جلسہ عام کے لئے شہر کے مختلف مقامات بالخصوص حلقہ اسمبلی گوشہ محل میں لگائے جانے والے ہورڈنگس پر راجہ سنگھ کی تصاویر موجود ہیں۔راجہ سنگھ نے تلنگانہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر کے انتخاب کے معاملہ میں پارٹی قیادت سے اختلاف کرتے ہوئے بی جے پی کی ابتدائی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا اور پارٹی نے گوشہ محل رکن اسمبلی کے استعفیٰ کو قبول بھی کرلیا ہے لیکن اس کے باوجود وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ حیدرآباد کی تشہیر کے لئے لگائے گئے ہورڈنگس پر راجہ سنگھ کی تصاویر سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بی جے پی میں اب بھی راجہ سنگھ کا کیڈر موجود ہے جو راجہ سنگھ کو بی جے پی کے قائد کے طور پر اب بھی تسلیم کرتا ہے۔ سیاسی ماہرین کا کہناہے کہ ان ہورڈنگس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں کیونکہ کسی بھی مستعفی کارکن خواہ وہ رکن اسمبلی ہی کیوں نہ ہو اس طرح کے ہورڈنگس آویزاں کرنے کی اجازت نہیں دیتا لیکن راجہ سنگھ نے ان ہورڈنگس پر نہ کوئی اعتراض کیا ہے اور نہ ہی تبصرہ کیا ہے جو کہ یہ ثابت کررہا ہے کہ راجہ سنگھ دوبارہ بی جے پی میں شمولیت کی خواہش ظاہر کر رہے ہیں لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی کی ریاستی قیادت کا کہناہے کہ راجہ سنگھ نے اپنی مرضی سے پارٹی کو خیر آباد کہا ہے پارٹی نے انہیں معطل نہیں کیا ۔ پارٹی کے سرکردہ قائدین کا کہناہے کہ بی جے پی میں ڈسپلن شکنی کرنے والوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے اورگوشہ محل رکن اسمبلی نے نہ صرف ڈسپلن شکنی ہے بلکہ پارٹی قیادت کے فیصلہ پر سوالات اٹھائے ہیں۔H/3