وعدہ تھا ایک ایک انچ وقف زمین کی واپسی کا ‘ بورڈ ہزاروں ایکڑ سے محروم

   

اوقافی جائیدادوں پر کے سی آر کا موقف بدل گیا ۔ وقف بورڈ اور محکمہ مال کے درمیان تنازعات ۔ ثالثی کے ذریعہ بیشتر مسائل کا حل ممکن

محمد نعیم وجاہت
حیدرآباد ۔ 6جون ۔ تلنگانہ تحریک کے دوران کے چندر شیکھر راؤ نے وقف اراضیات کا مکمل تحفظ کرنے لینکو ہلز کے بشمول دوسری ناجائز قبضوں کا شکار وقف اراضیات پر قبضے برخواست کرتے ہوئے ایک ۔ ایک انچ وقف اراضی تلنگانہ وقف بورڈ کے حوالے کرنے کا وعدہ کیا تھا ۔ دوسرے وعدوں کے ساتھ ان وعدوں پر بھی تلنگانہ کے مسلمانوں نے مکمل بھروسہ کیا ، نہ صرف تلنگانہ تحریک کی تائید کی بلکہ 2014 اور 2018ء کے عام انتخابات میں ٹی آر ایس سے مکمل تعاون کیا ۔ ٹی آر ایس کے 8سالہ دور حکومت کی تکمیل کے باوجود لینکو ہلز کی ایک انچ بھی اراضی وقف بورڈ کے حوالے نہیں ہوئی ، تاہم سینکڑوں ایکڑ وقف اراضیات سے وقف بورڈ محروم ہوگیا ہے ۔ تحریک کے دوران لینکو ہلز کی وقف اراضی کے معاملہ میں سپریم کورٹ میں اسپیشل لیو پٹیشن ( ایس ایل پی) داخل کرائی تھی ۔ ٹی آر ایس دور حکومت میں اپنے وعدے سے ٹی آر ایس انحراف کرچکی ہے ۔ کے سی آر کے موقف میں تبدیلی کا مسلمانوں نے سخت نوٹ لیا ہے ۔ وقف جائیدادوں کی عدلیہ میں موثر پیروی کیلئے شہرت یافتہ وکلاء کی خدمات سے استفادہ نہیں کیا جارہا ہے ۔ جو بھی وکلاء وقف بورڈ سے پیروی کررہے ہیں انہیں کسی قسم کا تعاون نہیں کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے وقف بورڈ کی عدلیہ میں شکست ہورہی ہے ۔ تحریک کے دوران کے سی آر کا موقف الگ تھا ، علحدہ تلنگانہ ریاست میں بحیثیت چیف منسٹر کے سی آر کا موقف تبدیل ہوگیا ہے ۔ متحدہ آندھراپردیش میں آندھرائی حکمرانوں پر وقف اراضیات کو نقصان پہنچانے کے جو الزامات تھے وہی الزامات اب چیف منسٹر تلنگانہ پر عائد ہورہے ہیں ۔ کئی اراضیات کی وقف گزٹ ہونے کے باوجود وقف بورڈ کو عدلیہ میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ وقف اراضیات کو دو طرح کے خطرات پیدا ہوگئے ہیں ۔ ایک طرف خانگی افراد ناجائز قبضے کررہے ہیں تو دوسری طرف حکومت کے دو محکمہ جات وقف بورڈ اور محکمہ مال کے درمیان تنازعات پائے جاتے ہیں ۔ خانگی افراد کے تنازعات سے عدلیہ میں نمٹا جائے ۔ سرکاری محکمہ جات کے درمیان جو تنازعات ہیں اس کو چیف منسٹر کے سی آر خود حل کرسکتے ہیں ۔ یہ ان کے خود کے اختیار میں ہے مگر چیف منسٹر اس مسئلہ کو بھی عدالت پر چھوڑ رہے ہیں ۔ ریاست میں ترقیاتی اقدامات کیلئے بڑے پیمانہ پر حصولی اراضیات کی جارہی ہے ۔ متاثرین میں کروڑہا روپئے کا معاوضہ ادا کیا جارہا ہے جبکہ وقف اراضیات مسلمانوں کی وقف کردہ اراضیات ہیں اس کو بھی چھین لیا جارہا ہے ۔ چیف منسٹر وقف اراضیات کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں تو انہیں اس کا ثبوت دینے کی ضرورت ہے ۔ محکمہ مال اور وقف بورڈ کی جانب سے ایک دوسرے کیخلاف اراضیات کیلئے عدلیہ میں جو وعدے کئے گئے ہیں اس کا دونوں محکمہ جات کے اعلیٰ عہدیدارو ں کے ساتھ خصوصی اجلاس طلب کرتے ہوئے جائزہ لیں اور دونوں محکمہ جات کو ہدایت دی جائے جائے کہ وہ عدلیہ میں پیش کردہ دعوؤں سے دستبردار ہوجائیں ۔ چیف منسٹر ثالثی کا رول ادا کرتے ہوئے وقف گزٹ میں جن اراضیات کو وقف قرار دیا ہے انہیں وقف بورڈ کے حوالے کردیں ۔ اگر محکمہ مال کو چاہیئے تو دوسری سرکاری اراضیات حوالے کردیں ۔ چیف منسٹر نے ایک مرتبہ اجلاس طلب کرتے ہوئے سارے وقف اراضیات کے ریکارڈ کو طلب کرلیا تھا اور سارے ریکارڈ کو ایک روم میں مقفل کردیا تھا جس سے یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ چیف منسٹر کچھ کرنے والے ہیں ۔ اس کارروائی کے دو سال مکمل ہونے کے باوجود کوئی نتیجہ برآمد ہوا ۔ کیوں ریکارڈ مقفل کیا گیا اس کی کیا وجہ تھی اس کو بھی آج تک راز میں رکھا گیا ہے جس سے بھی مسلمانوں میں تشویش پائی جاتی ہے ۔ وقف بورڈ کو جوڈیشیل پاور دینے کا وعدہ کیا گیا جس پر بھی آج تک کوئی عمل آوری نہیں ہوئی ہے ۔ ن