احکامات کی آج اجرائی،کھلی اراضیات کا تحفظ ، بی آر ایس اسکیم ہائی کورٹ میں زیر التواء، ریونیو بل پر اسمبلی میں مباحث کا جواب
حیدرآباد: چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے وقف اور انڈومنٹ اراضیات کو نئے ریونیو ایکٹ کے تحت شامل کرتے ہوئے رجسٹریشن کا عمل روکنے کا اعلان کیا ۔ اسمبلی میں نئے قانون پر مباحث کا جواب دیتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ ہفتہ کو وہ اس سلسلہ میں باقاعدہ احکامات جاری کریں گے ۔ ریاست کے تمام رجسٹریشن دفاتر میں وقف اور انڈومنٹ اراضیات کو رجسٹریشن سے مستثنیٰ قرار دیتے ہوئے ویب سائیٹ کو لاک کردیا جائے گا۔ ریاست میں اراضی کے مکمل سروے کے بعد وقف اورانڈومنٹ اراضیات کے موقف کو دوبارہ طئے کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہفتہ سے گزٹ میں شامل کوئی بھی وقف اراضی کا رجسٹریشن نہیں ہوپائے گا۔ بلدیہ اور گرام پنچایت سے تعمیر کی اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ہی کوئی این او سی جاری ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ریونیو ایکٹ کی دفعہ 22A کے تحت حکومت کو اختیار حاصل ہے کہ وہ رجسٹریشن کا عمل روک سکتی ہے ۔ اسی اختیار کو استعمال کرتے ہوئے ہفتہ کی صبح احکامات جاری کئے جائیں گے ۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست میں 87,235 ایکر انڈومنٹ اراضیات ہیں، ان میں سے صرف 20,000 محفوظ ہیں۔ چیف منسٹر کے مطابق ریاست میں 77,538 ایکر اوقافی اراضی گزٹ نوٹیفائیڈ ہے۔ یہ اراضی 33,929 اداروں کے تحت ہے۔ 57,423 ایکر اراضی پر ناجائز قبضے ہیں۔ قابضین کی تعداد 6938 ہے۔ ان میں سے 6074 نوٹس جاری کئے گئے اور 2186 تخلیہ کے احکامات جاری ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اوقافی جائیدادوں کے سلسلہ میں صرف 10 ایف آئی آر درج ہوئے ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ گزشتہ 30 برسوں سے وہ اسمبلی میں اوقافی جائیدادوں کی زبوں حالی کا تذکرہ سن رہے ہیں۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ 77,000 ایکر اوقافی اراضی کا تحفظ کیا جائے گا اور ان کی رجسٹری نہیں ہوگی۔ چیف منسٹر نے کہا کہ کئی مقامات پر اوقافی اراضیات پر بستیاں آباد ہیں ۔ جہاں کہیں بھی کھلی اراضی ہوگی حکومت اس کا تحفظ کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ منشائے وقف کے تحت اوقافی اراضیات کا استعمال کیا جائے گا۔ ریاست میں لے آؤٹ کے بغیر اراضیات اور پلاٹ کو باقاعدہ بنانے کی مہم جاری ہے جبکہ غیر مجاز تعمیرات کو باقاعدہ بنانے کی اسکیم میں تاخیر ہوسکتی ہے کیونکہ یہ معاملہ ہائی کورٹ میں زیر دوران ہے۔ وہ اس سلسلہ میں چیف جسٹس ہائی کورٹ سے بات چیت کرتے ہوئے مسئلہ کا عاجلانہ حل تلاش کریں گے ۔ ہائی کورٹ کے فیصلہ کے بعد بلڈنگ ریگولیشن اسکیم کا اعلان کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ اراضی معاملات میں شفافیت پیدا کرنے کیلئے نیا قانون مددگار ثابت ہوگا۔