وقف ایکٹ میں ترمیم کا مقصد وقف املاک کو چھیننا ہے

   

بورڈس کے معاملات میں دیگر محکموں کی مداخلت کی کوشش
حیدرآباد۔6۔اگسٹ۔(سیاست نیوز) مرکزی حکومت وقف ایکٹ میں ترمیم کے ذریعہ نہ صرف موقوفہ جائیدادوں کو چھیننا چاہتی ہے بلکہ مرکز کی جانب سے تجویز کردہ 40 ترامیم کا جائزہ لینے پر یہ بات سامنے آتی ہے کہ مرکز وقف بورڈ کی خود مختار حیثیت کو ختم کرتے ہوئے وقف بورڈ کے معاملات میں دیگر محکمہ جات کی مداخلت کی راہیں فراہم کرنا چاہتی ہے۔ حکومت ہند کی جانب سے کابینہ میں منظورکی گئی وقف ترامیم کے سلسلہ میں کہا جا رہاہے کہ مرکزی حکومت ملک بھر میں موجود موقوفہ جائیدادوں کے ازسرنو سروے کے علاوہ سرکاری محکمہ جات کے ساتھ جاری تنازعات کو ضلع کلکٹرس کی نگرانی میں حل کرنے کی گنجائش فراہم کرنے کا جواز پیدا کرنے کی کوشش میں ہے جبکہ وقف ایکٹ 2013 میں یو پی اے حکومت کی دوسری معیاد کے دوران منموہن سنگھ حکومت کی جانب سے وقف بورڈ کو خودمختار ادارہ بناتے ہوئے اس کے اختیارات میں اضافہ کیا تھا اور اس سے قبل کانگریس حکومت نے پی وی نرسمہا راؤ کے دور حکومت میں 1954 کے وقف قوانین کو منسوخ کرتے ہوئے وقف ایکٹ 1995 تیار کیا تھا اور اس ایکٹ میں وقف بورڈ کو جو اختیارات دیئے گئے تھے اس کے مطابق وقف بورڈ کی جانب سے گزٹ کی اجرائی کے ذریعہ وقف بورڈ اپنی جائیدادکو حاصل کرسکتا تھا اور 2014میں کی گئی ترامیم کے بعدموقوفہ جائیدادوں کو ناقابل منتقلی قرار دیتے ہوئے حکومت کی جانب سے موقوفہ جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں اقدامات کئے تھے لیکن اب مرکز میں موجود مودی حکومت کی جانب سے وقف ایکٹ کی ترمیم کے سلسلہ میں اقدامات کے ذریعہ وقف جائیداد کو قابل منتقلی قرار دینے کے اقدامات کا خدشہ ہے اسی لئے مختلف گوشوں بالخصوص آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جانب سے ان ترامیم کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اعلان کیاگیا ہے کہ یہ ترامیم قطعی طور پر ناقابل قبول ہے۔ حکومت ہند نے کابینہ میں جو ترامیم کو منظور کیا ہے اسے جاریہ ہفتہ کے دوران پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا اور اگر ان ترامیم کو قبول کرلیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں ملک بھر میں موجود لاکھوں ایکڑ موقوفہ جائیداد بالخصوص مساجد ‘ درگاہیں‘ عاشورخانہ جات کے علاوہ دیگر مذہبی مقامات جو موقوفہ ہیں ان کے وجود کو خطرہ لاحق ہوجائے گا ۔ ایسی مساجد جن کے متعلق مقدمات ملک کی مختلف عدالتوں میں زیر دوراں ہیں ان مساجد کے متعلق وقف ایکٹ کے ذریعہ جو تحفظ حاصل کیا جاتا ہے اور انہیں موقوفہ ہونے کے سبب ناقابل منتقلی قرار دیا جاتا ہے ان مساجد کے وجود کو بھی خطرہ لاحق ہوجائے گا۔ یو پی اے حکومت کی دوسری معیاد کے دوران ڈاکٹر منموہن سنگھ نے وقف بورڈ کو جو اختیارات حوالہ کئے تھے اس کے بعد ملک میں اوقافی جائیدادوں کے تنازعات کی یکسوئی کے لئے راہیں ہموار ہوئی تھیں ۔ وقف بورڈ ملک بھر میں تیسرا بڑا ایسا ادارہ ہے جو سب سے زیادہ اراضیات کی ملکیت رکھتا ہے ۔ محکمہ ریلوے اور محکمہ دفاع کے بعد وقف بورڈ کے پاس سب سے زیادہ اراضیات ہیں اور ایک اندازہ کے مطابق 8لاکھ ایکڑ سے زائد ان جائیدادوں کے ذریعہ وقف بورڈ کو 200 کروڑ سالانہ آمدنی حاصل ہورہی ہے۔ مرکزی حکومت کی کابینہ نے جو ترمیم کو منظوری دی ہیں اگر ان تجاویز کو منظور کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں ملک بھر میں عام مسلمانوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر احتجاج شروع کئے جانے کا امکان ہے۔3