وقف بل کے نام پر بی جے پی مسلمانوں کی جائیدادوں کو حاصل کرکے سرکاری قرار دے سکتی ہے

   

قوانین میں ترمیم اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی سازش، عطاء الرحمن قاسمی کی کتاب میں انکشاف

حیدرآباد۔24۔نومبر(سیاست نیوز) بی جے پی نے متنازعہ وقف بل کے ذریعہ مسلمانوں کی جائیدادوں کو حاصل کرنے کے علاوہ انہیں سرکاری قرار دینے کی کوشش کرسکتی ہے اس کی سابق میں کئی مثالیں ملتی ہیں جو کہ تقسیم ہند کے وقت کی ہیں۔ تقسیم ہند کے دوران غیر مسلم مہاجرین جو سرحد پار سے آئے تھے ان کے لئے بنائے گئے کیمپوں میں موقوفہ اراضیات بالخصوص درگاہیں اور خانقاہیں شامل تھیں جو بعد میں ان کی ہو کر رہ گئی ہیں۔جناب عطا الرحمن قاسمی کی کتاب دہلی تاریخی مساجد میں موجود موقوفہ جائیدادوں اور مساجد کے تذکرہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دہلی میں کس طرح سے مہاجرین کی بازآبادکاری کے لئے تاریخی مقامات بالخصوص مساجد کو استعمال کیاگیا اور دہلی کے رہنے والے مسلمان جو مابعد آزادی خون خرابہ کے سبب دہلی سے ہجرت کر رہے تھے ان کی بڑے بنگلے اورمکانات کو بھی سرحد پارسے آنے والے غیر مسلموں کے حوالہ کیا جاتا رہا ۔امریکی پروفیسر آنند تنیجا جو کہ محکمہ آثار قدیمہ کے ریکارڈس تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں انہوں نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اب محکمہ آثار قدیمہ میں موجود ریکارڈس قابل رسائی نہیں ہے بلکہ ریکارڈس کو جس انداز میں رکھا گیا ہے اس سے ایسا لگتا ہے کہ دوبارہ یہ ریکارڈس کسی کے دسترس میں نہ ہوں اس کے لئے اس طرح رکھا گیا ہے۔ دہلی کی موقوفہ اراضیات اور بعض مساجد کے حوالہ اور وقف کی تباہی کے متعلق جو تفصیلات تحقیق کے دوران سامنے آرہی ہیں اس سے یہ ثابت ہونے لگا ہے کہ منظم انداز میں وقف بورڈ کو تباہ کرتے ہوئے مسلمانوں کو ان کی اپنی جائیدادوں سے محروم کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔1954 میں دہلی میں للت کلا اکیڈیمی اور ساہتیہ اکیڈیمی کا افتتاح عمل میں آیا اور ان کی جائیدادوں کا مشاہدہ کیا جا ئے تو یہ تغلق مسجد جس کا اب کوئی نام و نشان نہیں ہے اس سے متصل بنائی گئی تھیں۔ 1980 کی دہائی میں بھی مسلم قبرستانوں کی مخلوعہ اراضیات پر اس وقت کے لیفٹنٹ گورنر کی نگرانی میں دہلی ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے بورڈآویزاں کرتے ہوئے سرکاری قبضہ کئے گئے اور اب بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت وقف قوانین میں ترمیم کے ذریعہ ملک بھر کی موقوفہ اراضیات کو نقصان پہنچانے کے منصوبہ پر عمل آوری کے ذریعہ مسلم عبادت گاہوں ‘ خانقاہوں‘ درگاہوں اور قبرستانوں کی اراضیات کو حاصل کرنے کی سازش پر عمل کر رہی ہے۔3