تحقیر عدالت کے مقدمہ، جھوٹا حلف نامہ داخل کرنے سے بھی گریز نہیں
محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد۔18۔اگسٹ۔چیف اکزیکٹیو آفیسر تلنگانہ وقف بورڈ کی ترجیح عدالتوں میں وقف جائیدادوں کے تحفظ سے زیادہ اپنا تحفظ ہے!وقف بورڈ میں خدمات انجام دینے والے عہدیدار اس ادارہ کے تحت موجود جائیدادوں کے نگران ہیں یا نہیں !جائیدادوں کی تباہی پر خاموشی اور ٹال مٹول سے کام لینے والے بورڈ کے عہدیدار عدالت میں ان کے خلاف دائر تحقیر عدالت کے مقدمہ میں مؤثر پیروی کے اہل ہیں اور اس کے لئے جھوٹا حلف نامہ داخل کرنے سے بھی گریز نہیں کر رہے ہیں۔محمد اسداللہ سی ای او تلنگانہ وقف بورڈ جو اپنے مکان کے قریب واقع 8000مربع گز اراضی کے تحفظ اور اس پر ہونے والے قبضہ جات کے خلاف کاروائی کرنے میں نہ صرف ناکام ہیںبلکہ قابضین کے خلاف نوٹس کی اجرائی سے بھی گریز کر رہے ہیں ‘ اسی طرح جامعہ نظامیہ کی 510 ایکڑ 35گنٹے وقف اراضی کے معاملہ میں عدالت میں داخل کئے گئے مقدمہ میں جوابی حلف نامہ داخل کرنے کے بجائے کلکٹر ضلع رنگا ریڈی کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے ان سے جائیداد کی تفصیلات اور دستاویزات طلب کر رہے ہیں ۔وقف بورڈ جو کہ موقوفہ جائیدادوں کا ریکارڈ رکھنے کا ذمہ دار ادارہ ہے اس ادارہ کے چیف اکزیکٹیو آفیسر نے ضلع رنگاریڈی کلکٹر کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے سروے نمبر 83/1 پان مقطعہ رائے درگ کی تفصیلات و دستاویزات طلب کئے ہیں جبکہ تلنگانہ ہائی کورٹ میں ہی جاری بارگاہ عباسؒدیوان دیوڑھی متولی کے تقرر کے معاملہ میں تحقیر عدالت کے مقدمہ میں وقف بورڈ نے نہ صرف اپنے وکلاء کو ذمہ داری دی ہے بلکہ جوابی حلف نامہ داخل کردیا۔تلنگانہ وقف بورڈ کی کارکردگی پر اب جو سوال اٹھنے لگے ہیں وہ انتہائی سنگین ہیں کیونکہ ملکا جگری کی موقوفہ اراضیات کے سروے نمبرات کو گزٹ کی تنقیح کے نام پر دوسرے موضع میں منتقل کرنے کے لئے ڈائریکٹرجنرل محکمہ اسٹامپس اینڈ رجسٹریشن کو روانہ کردہ مکتوب کے منظر عام پر آنے کے بعد سی ای او کی کارکردگی انتہائی مشتبہ ہوچکی ہے کیونکہ ماہر قوانین مال ہونے کے باوجود ’وقف جائیداد‘ کے سروے نمبرات کی تبدیلی یا حذف کرنے یا گزٹ میں ترامیم کے لئے اپنے طور پر مکتوب روانہ کرنے کا نہ ہی سی ای او کو اختیار ہے اور نہ ہی بورڈ کو اختیار ہے اگر کوئی وقف جائیداد کی ملکیت کا دعویٰ کر تا ہے تو اسے قانون کے مطابق ’وقف ٹریبونل ‘ سے رجوع ہونے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔ اس معاملہ کے علاوہ درگاہ حضرت شاہ قلی بہادر ؒ اور عاشور خانہ آثار شریف کے تحت موجود 26ہزار 376مربع گز اراضی جو کہ تالہ گڈہ ‘ کاروان میں موجود ہے اور چیف اکزیکٹیو آفیسر کے مکان سے چند قدم کے فاصلہ پر ہے اس موقوفہ اراضی میں 8ہزار مربع گز سے زائد اراضی پر موجود قابضین کے خلاف کاروائی کے لئے کی جانے والی متعدد نمائندگیوں کو نظر انداز کررہے ہیں۔ جامعہ نظامیہ کی 510 ایکڑ اراضی کے معاملہ میں بورڈ کے عہدیداروں نے جو موقف اختیار کیا ہوا ہے اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تلنگانہ وقف بورڈ اور سی ای او کو وقف جائیدادوں کے تحفظ سے زیادہ اپنے تحفظ کی فکر لاحق ہے کیونکہ عدالت خلاف قانون کی جانے والی کاروائیوں کے لئے عہدیداروں کے خلاف دائر کئے جانے والے مقدمات میں وقف بورڈ کے اسٹینڈنگ کونسل واضح ہدایات بلکہ بے بنیاد اطلاعات پر مشتمل جوابی حلف ناموں کے ساتھ عدالت میں پیش ہورہے ہیں جبکہ جامعہ نظامیہ کی اراضی کے تحفظ کے معاملہ میں وقف بورڈ کے عہدیداروں یا سی ای او کی جانب سے اب تک بھی کوئی واضح ہدایات جاری نہیں کی گئی ہیں جس پر یہ کہاجاسکے کہ ’وقف بورڈ ‘ امت مسلمہ کے کروڑہا روپئے مالیاتی اثاثہ کے تحفظ کے سلسلہ میں سرگرم ہوچکا ہے۔ تلنگانہ ہائی کورٹ میں آج وقف بورڈ سے متعلق 2 مقدمات کی سماعت ہوئی جن میں ایک مقدمہ کا تعلق سی ای او کے خلاف تحقیر عدالت سے تھا جو جسٹس لکشمی نارائنہ علی شیٹی کی بنچ پر تھا جس میں وقف بورڈ کے اسٹینڈنگ کونسل نے سی ای او کا جوابی حلف نامہ داخل کرنے کے علاوہ مقدمہ کی پیروی کے اقدامات کو تیز کردیا ہے جبکہ دوسرامقدمہ جامعہ نظامیہ کی موقوفہ اراضی کے ہراج سے متعلق تھا جوکہ جسٹس ناگیش بھیماپاکا کی بنچ پر تھا لیکن اس مقدمہ میں سی ای او وقف بورڈ کی جانب سے کسی بھی اسٹینڈنگ کونسل کو کوئی ہدایت نہیں دی گئی اور نہ ہی کسی طرح کا کوئی حلف نامہ داخل کیاگیا جبکہ ضلع رنگاریڈی کلکٹر کے وکلاء نے چیف اکزیکٹیو آفیسر وقف بورڈ کی جانب سے کلکٹر کو روانہ کیا گیا مکتوب عدالت میں پیش کیا ۔