وقف بورڈ میں اقربا پروری اور بدعنوانیاں عہدیداروں کیلئے اصل رکاوٹ

   

خدمات انجام دینے سے انکار کی اصل وجہ ، کئی سابق عہدیداروں کو انتہائی تلخ تجربات
حیدرآباد۔12جنوری(سیاست نیوز) تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ میں جاری عرصہ دراز سے بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں اور نااہل ملازمین و عہدیداروں کی کثرت اور مختلف گوشوں سے ان ملازمین کی پشت پناہی کے سبب وقف بورڈ کے چیف اکزیکیٹیو آفیسر کے عہدہ پر کوئی عہدیدار خدمات انجام دینے کے لئے آمادہ نہیں ہے۔ وقف بورڈ کے اس اہم ترین عہدہ پر خدمات کی انجام دہی سے انکار کرنے والے عہدیداروں سے جب وجوہات دریافت کرنے کی کوشش کی گئی تو عہدیداروں نے بتایا کہ وہ نااہل اور بدعنوانیوں میں ملوث ایسے ملازمین کے ساتھ کام کرنے کے موقف میں نہیں ہیں کیونکہ بہ حیثیت ذمہ دار ان نااہل اور بدعنوان ملازمین کی حرکات و کاروائیوں کے لئے انہیں ہی ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے اسی لئے وہ نہیں چاہتے کہ یہ ذمہ داری قبول کریں۔ وقف بورڈ میں خدمات انجام دے چکے عہدیداروں کا کہناہے کہ ان کے جو تجربات رہے ہیں وہ انتہائی ناگفتہ بہ ہیں کیونکہ جب وہ اپنے ماتحت ملازمین کے خلاف کاروائی کا فیصلہ کرتے تو ان ملازمین کو بعض اراکین وقف بورڈ کی حمایت حاصل ہوجاتی اسی لئے وہ ان کے خلاف کاروائی سے بھی قاصر تھے ۔ عہدیداروں کا کہناہے کہ وقف بورڈ میں خدمات انجام دینے والے کئی ملازمین جو برسوں سے اہم عہدوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں وہ ان عہدوں کے اہل نہیں ہیں حتیٰ کہ بعض ملازمین کے تعلیمی اسنادات بھی مشتبہ ہیں اس کے باوجود وہ ان کے خلاف کاروائی کرنے سے قاصر رہے ۔سی ای او وقف بورڈ کے عہدہ پر خدمات انجام دینے والے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ جس وقت انہوں نے اپنے ماتحت خدمات انجام دینے والے ملازمین کے خلاف کاروائی کی کوشش اور کسی بھی دباؤ کو قبول نہیں کیا تو ان پر مختلف الزامات عائد کئے گئے اور انہیں بورڈ سے ہٹادیا گیا جو کہ ان کی خدمات پر داغ کے مترادف ہے ۔ تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ میں خدمات انجام دینے والے بیشتر ملازمین کی خدمات موروثی اور خاندانی کے طرز پر ہیں اور بیشتر ملازمین آپس میں رشتہ دار ہونے کے سبب ان کے پاس تمام شعبوں کی اطلاعات موجود ہوتی ہیں علاوہ ازیں جن ملازمین کی طویل عرصہ سے ایک کی عہدہ پر خدمات ہیں وہ اپنے شعبہ میں کسی کی مداخلت برداشت نہیں کرتے اور جب اعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے ان کی باز پرس یا ان کی جانب سے کی جانے والی دھاندلیوں پر سوال کئے جاتے ہیں تو وہ ان عہدیداروں کو ہی اپنے رشتہ دار ملازمین کے ساتھ ملکر بدنام کرنے کی کوششوں کا آغاز کردیتے ہیں جس کے نتیجہ میں عہدیدارکو صفائی دینے کا موقع بھی نہیں ملتا اور وہ واپس اپنے محکمہ کو چلا جاتا ہے یا بھیج دیا جاتا ہے۔ جناب ایم بی شفیع اللہ آئی ایف ایس کی جانب سے سی ای او کا عہدہ قبول نہ کئے جانے کے فیصلہ کے علاوہ محکمہ مال کے عہدیدار جناب عبدالحمید اور محکمہ قانون میں خدمات انجام دینے والے عہدیدار جناب عبدالمنان فاروقی کے علاوہ فی الحال ریاستی وزیر داخلہ کے پاس خدمات انجام دے رہے جناب اسداللہ کو وقف بورڈ کے تلخ تجربات کا سامنا ہوچکا ہے اسی لئے یہ عہدیدار بھی بورڈ میں خدمات انجام دینے کے لئے آمادہ نہیں ہیں ۔ بورڈ اور حکومت کی مداخلت سے زیادہ بورڈ میں خدمات انجام دینے والے عملہ کی نااہلی اور بدعنوانیوں سے پریشان عہدیدار سی ای او وقف بورڈ کی ذمہ داری قبول کرنے کے لئے راضی نہیں ہیں اور ان کا کہناہے کہ بورڈ میں اہل اور ذمہ دار عہدیداروں کے تقرر کے ذریعہ ہی حالات کو بہتر بنایا جاسکتا ہے بصورت دیگر بورڈ کی کارکردگی کو بہتر بنایا جانا ممکن نہیں ہے۔م