وقف بورڈ کو فوری برخوست کر نے اور بد عنوان عہدیداروں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ

   

شاہ نواز قاسم کو اچانک حج ہائوز کا دورہ کرنے پیر شبیر نقشبندی کا مشورہ
حیدرآباد 19 ڈسمبر ( راست) تلنگانہ میں  10سال کے بعد سونیا گاندھی ،راہول گاندھی اور ملکارجن کھرگے کی رہنمائی میں کانگریس حکومت کے قیام کو ریاستی عوام اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کیلئے خوش آئند قرار دیتے ہوئے نہرو گاندھی خاندان سے 50سال سے روحانی تعلقات رکھنے والے مولانا پیر سید شبیر نقشبندی افتخاری بانی فخر الدین علی احمد میموریل کمیٹی نے چیف منسٹر ریونت ریڈی کو دعائوں سے نوازتے ہوئے اس توقع کا اظہار کیا کہ ان کی حکومت میں تلنگانہ ترقی اور خوشحالی کا کامیاب سفر طے کرے گی اور عوام کی فلاح وبہبود کیلئے بہتر اقدامات کئے جائیں گے۔ مولانا پیر نقشبندی نے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ اور اوقافی مسائل کے حل پر زور دے کر چیف منسٹر سے مطالبہ کیا کہ وہ قانونی مشورہ کرکتے وقف بورڈ کو برخواست کریں۔ بہتر ہو گا کہ سابقہ بی آر ایس حکومت کے وہ ارکان وقف بورڈ جنہیںحکومت نے نامزد کیا وہ از خود سبکدوشی اختیار کریں۔ مولانا نے چیف منسٹر سے کہا کہ وہ وقف بورڈ میں 10 سال سے بد عنوانیوںہیں اور بد عنوان عملہ  کے خلاف تحقیقات کروائیں اور سخت کاروائی کریں۔ مولانا پیر نقشبندی نے چیف منسٹر کے سکریٹری شاہنواز قاسم کے تقرر کو بہتر فیصلہ قرار دیا اور جناب شاہ نواز قاسم کو مشورہ دیا کی وہ اچانک وقف بورڈ اور دیگر اقلیتی اداروںکے دفاتر کا معائنہ کر تے رہیں اور حج ہائوز میں بدعنوان عہدیداروں کے خلاف کارروائی کریں اور بہتر کارکردگی کیلئے عوام میں کومت کا اعتماد بحال کریں ۔ مولانا پیر نقشبندی نے وقف انسپکٹرس کے تبادلہ کو ناگزیر قرار دیا جو با بعض ارکان  کی پشت پناہی پر اپنے من پسند علاقوں میں کام کر رہے ہیں ۔ ایسے انسپکٹرس کے تبادلے اور ان کی کارکردگی کی تحقیقات ضروری ہے تاکہ اوقافی جائیدادیں بطور خاص درگاہیں مساجد محفوظ رہ سکیں۔