چیف ایگزیکیٹیوآفیسر کے تقرر میںٹال مٹول کا سلسلہ جاری ۔ ریاستی وزیر کو بھی دلچسپی نہیں
حیدرآباد۔5۔جنوری(سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ کے چیف ایگزیکیٹیو آفیسر کے متعلق حکومت اور محکمہ اقلیتی بہبود کا رویہ ناقابل فہم حد تک غیر ذمہ دارانہ ہوچکا ہے ۔ وقف بورڈ سی ای او کے عہدہ پر گذشتہ دو یوم سے کوئی عہدیدار موجود نہیں ہے اور نہ کسی کو اس کی زائد ذمہ داری دی گئی ہے ۔ جناب شاہنواز قاسم کی خدمات محکمہ پولیس کے حوالہ کئے جانے کے بعد 4ادارہ جات کے سربراہان کے عہدے خالی ہیں لیکن محض ایک عہدہ ڈائرکٹر محکمہ اقلیتی بہبود کی ذمہ داری جناب محمد عبدالعظیم آئی اے ایس کے حوالہ کی گئی ۔ وقف بورڈ چیف ایگزیکیٹیو آفیسر کے عہدہ پر فوری تقرر کی بجائے محکمہ اقلیتی بہبود کے موقف کو دیکھتے ہوئے کہا جا رہاہے کہ حکومت اور وزیر اقلیتی بہبود کی عدم دلچسپی کے سبب اس عہدہ پر تقرر سے محکمہ کے عہدیدار اجتناب کرنے لگے ہیں۔ وقف بورڈ اور سی ای او میںجاری رسہ کشی کے دوران سی ای او کی خدمات محکمہ پولیس کو حوالہ کئے جانے کے بعد مخلوعہ عہدوں پر تقررات میں عجلت کی جانی چاہئے تھی لیکن چیف ایگزیکیٹیو آفیسر کے عہدہ کو کبھی مخلوعہ نہیں رکھا گیا بلکہ بسا اوقات سابق سیکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود جناب عمر جلیل نے وقف بورڈ کے امور سنبھالے ہیں ۔ بتایاجاتا ہے کہ جناب محمد عبدالحمید نے سی ای او وقف بورڈ کی ذمہ داری قبول کرنے سے معذرت کرلی ہے اور واضح کردیا کہ اگر انہیں یہ ذمہ داری تفویض کی گئی تو وہ طویل رخصت پر چلے جائیں گے۔ جناب منان فاروقی کی خدمات کو ان کے محکمہ نے محکمہ اقلیتی بہبود کے حوالہ کرنے سے منع کرنے کی اطلاع ہے ۔ذرائع کے مطابق وقف بورڈ نے مزید دو یوم انتظار کے بعد سرکولر ایجنڈہ کے ذریعہ روزمرہ کے امور کی انجام دہی کیلئے قوانین وقف کے مطابق وقف بورڈ کے کسی سینیئر عہدیدار کو انچارج سی ای او کی ذمہ داری دینے پر غور شروع کردیا ہے تاکہ عدالتی مقدمات کے امور کی نگرانی کے علاوہ موقوفہ اراضیات پر قبضوں کے متعلق شکایات اور دیگر امور کی یکسوئی عمل میں لائی جاسکے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے ذرائع کے مطابق وقف بورڈ کے سی ای او کی ذمہ داریوں کی حوالگی کے معاملہ میں عہدیداروں کی عدم دلچسپی محکمہ اقلیتی بہبود اور حکومت تلنگانہ کے لئے درد سر بنی ہوئی ہے۔