وقف بورڈ کے مستقل سی ای او کے مسئلہ پر الجھن و تعطل برقرار

   

بورڈ کی قرار داد کے باوجود حکومت کی جانب سے کوئی احکام جاری نہیں کئے گئے

حیدرآباد۔/23 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) وقف بورڈ کے چیف ایگزیکیٹو آفیسر کے تقرر کا مسئلہ اُلجھتا جارہا ہے۔ 20 اکٹوبر کو بورڈ اجلاس میں موجودہ سی ای او جناب شاہنواز قاسم کو ہٹانے کے فیصلہ پر قرارداد کی منظوری کے باوجود حکومت نے تاحال کوئی احکام جاری نہیں کئے جس کی وجہ سے موجودہ سی ای او اب بھی برقرار ہیں۔ وقف بورڈ نے ویجلینس آفیسر خواجہ معین الدین کو بطور انچارج سی ای او مقرر کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن جناب خواجہ معین الدین نے سی ای او کو مکتوب روانہ کرکے کہا کہ وہ سی ای او کی ذمہ داری قبول کرنے آمادہ نہیں ہیں۔ اس مکتوب کے بعد بورڈ کے فیصلہ اور اقدامات مزید اُلجھن کا شکار بن چکے ہیں۔ حکومت کی جانب سے وقف بورڈ میں مستقل سی ای او کے تقرر میں لاپرواہی بورڈ کی کارکردگی کو متاثر کر رہی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ موجودہ سی ای او نے اعلیٰ حکام سے خواہش کی ہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود میں تمام ذمہ داریاں واپس لے کر وقف بورڈ چیف ایگزیکیٹو آفیسر کی ذمہ داری حوالہ کی جائے تاکہ وہ مکمل وقت وقف بورڈ میں دے سکیں۔ واضح رہے کہ شاہنواز قاسم ڈائرکٹر محکمہ اقلیتی بہبود، ڈائرکٹر سکریٹری اردو اکیڈیمی کے ساتھ چیف ایگزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ کی اضافی ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے ہیں اسی لئے وہ بورڈ میں وقت دینے سے قاصر ہیں۔ ذرائع کے مطابق شاہنواز قاسم سے ڈائرکٹر سکریٹری اردو اکیڈیمی اور ڈائرکٹر محکمہ اقلیتی بہبود کی ذمہ داریاں واپس لے کر انہیں سی ای او وقف بورڈ کی مستقل ذمہ داری دینے پر غور ہو رہا ہے ۔صدرنشین بورڈ جناب محمد مسیح اللہ خاں نے بتایا کہ وقف بورڈ کو مستقل سی ای او ضروری ہے اور مستقل سی ای او کی عدم موجودگی کو دیکھتے ہوئے وقف بورڈ نے یہ فیصلہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اقلیتی بہبود کسی کو بھی مستقل سی ای او مقرر کرے بورڈ کو اعتراض نہیں ہوگا کیونکہ بورڈ و بحیثیت صدرنشین ان کا مقصد وقف بورڈ کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے جو کہ مستقل سی ای او کی عدم موجودگی سے شدید متاثر ہورہی ہے۔ م