مسلم کمیونٹی کی اہم اخلاقی اور قانونی جیت ،عدلیہ پر اعتماد میں اضافہ ، قانونی و عوامی مباحث میں جدوجہد جاری رہے گی
l کانگریس ایم ایل سی عامر علی خان بھی کیس کے فریق
l یہ قانونی چیلنج تشہیر یا سیاسی فائدہ کیلئے نہیں بلکہ فرض سمجھ کر لیا گیا فیصلہ
l ہمیں اُمید ہیکہ 5 مئی کی اگلی سماعت میں سپریم کورٹ مزید آگے بڑھے گی
l امام شاہی مسجد باغ عامہ احسن بن عبدالرحمن الحمومی کی دعا کا اثر
حیدرآباد۔ 17 اپریل (سیاست نیوز) کانگریس کے ایم ایل سی جناب عامر علی خان نے وقف ترمیمی ایکٹ پر سپریم کورٹ کے عبوری راحت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسلم کمیونٹی کی ایک اہم اخلاقی اور قانونی کامیابی ہے ۔ عدلیہ، مسلمانوں کے مذہبی اور آئینی حقوق کیلئے کھڑی ہوئی ہے۔ جناب عامر علی خان نے سپریم کورٹ میں جمعرات کے روز سماعت پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں خوشی ہے کہ اس فیصلے سے عدلیہ پر ہمارا یقین مزید پختہ ہوگا۔ سپریم کورٹ کے عبوری احکامات میں وقف اداروں میں غیرمسلم کی شمولیت پر موثر طریقے سے روک لگائی گئی ہے اور وقف املاک کی حیثیت کے ساتھ کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ کو روک دیا ہے۔ اس عبوری راحت سے ملک بھر میں ہزاروں مساجد کو تحفظ حاصل ہوا ہے۔ رکن قانون ساز کونسل جناب عامر علی خان نے جنہوں نے ٹاملناڈو کی پارٹی VCK کے ساتھ سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن داخل کی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ قانونی چیلنج تشہیر یا سیاسی فائدے کیلئے نہیں بلکہ خالص فریضہ کے احساس کے ساتھ اُٹھایا گیا اقدام ہے۔ جناب عامر علی خان نے کہا کہ ہم نے کسی تشہیر کے بغیر مسلم سماج میں شعور بیدار کیا ہے۔ یہ سیاسی لڑائی نہیں بلکہ آئینی لڑائی ہے۔ جذباتی عوامی ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں شاہی مسجد باغ عامہ کے امام مولانا احسن بن عبدالرحمن الحمومی کی جانب سے وقف کے تحفظ کیلئے خصوصی اجتماعی دعا کا اہتمام کیا تھا جس میں سب کے آنسو رواں تھے۔ شاید یہ دعائیں اللہ کے حضور قبول ہوئیں ہوگی اور سپریم کورٹ کی جانب سے عبوری راحت حاصل ہوئی۔ کانگریس لیڈر جناب عامر علی خان نے مزید کہا کہ عدلیہ نے پھر ایک مرتبہ غیرجمہوری طرز حکمرانی پر سوال اُٹھایا ہے، جب بھی کوئی آمرانہ حکومت ایسی قوانین نافذ کرنے کی کوشش کرتی ہے جو دستور کی خلاف ورزی کرتے ہیں، تو عدلیہ ہی ہے جو توازن بحال کرنے کیلئے مداخلت کرتا ہے جس کا ہم آج مشاہدہ کررہے ہیں۔ جبکہ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ سماعت کے اگلے مرحلے میں صرف پانچ درخواستوں کو اہم مقدمات کے طور پر دیکھا جائے گا۔ عامر علی خان نے کہا کہ وہ قانونی لڑائی میں پوری طرح مصروف رہیں گے۔ ابھی یہ فیصلہ ہونا باقی ہے کہ کن پانچ درخواستوں کا انتخاب کیا جائے گا۔ ہمیں اُمید ہے کہ 5 مئی کو ہونے والی آئندہ سماعت میں سپریم کورٹ مزید آگے بڑھے گی اور وقف ترمیمی ایکٹ کی غیرآئینی دفعات کو برخاست کردے گی۔ انہوں نے اس بات کا بھی اعادہ کیا ہے کہ جس طرح قانون میں ترمیم کی گئی ہے کہ وہ وقف اداروں کے تقدس کیلئے براہ راست بہت بڑا خطرہ ہے اور یہ مذہبی خودمختاری کیلئے حملہ بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قانونی جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ہے، لیکن آج عدلیہ نے ہمیں طاقت و اُمید دی ہے اور دستوری انصاف پر ہمارے یقین کو مزید پختہ کیا ہے۔ کانگریس کے رکن قانون ساز کونسل جناب عامر علی خان نے وضاحت کی ہے کہ وہ وقف املاک کی تاریخی اور مذہبی سالمیت کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانے کیلئے عدلیہ کیساتھ ساتھ عوامی مباحث بھی اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ 2