وقف ترمیمی بل ملت اسلامیہ کے مفادات کیخلاف : متحدہ مجلس علما ء

   

مسلمانوں کے مذہبی و اجتماعی اداروں کو کمزور کرنے کی کوشش کا الزام
سری نگر:متحدہ مجلس علماء نے ہفتے کے روز کہا کہ وقف ترمیمی بل ملت اسلامیہ کے مفادات کے خلاف ہے اور اس حوالے سے مجلس نے پہلے ہی حکومت کی طرف سے بنائی گئی کمیٹی کے سامنے اپنے خدشات اور تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔متحدہ مجلس علماء جموں و کشمیرجو ریاست کے مقتدر علما، ائمہ اور دینی تنظیموں کا سب سے بڑا پلیٹ فارم ہے نے جامع مسجد سرینگر میں شب قدر اور جمعتہ الوداع کے مواقع پر نماز اور عبادات کی اجازت نہ دیے جانے کے حکومتی فیصلے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اپنی شدید ناراضگی کا اظہار کیا ۔مجلس نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے کہ دنیا کے ہر حصے میں حتیٰ کہ جنگ زدہ علاقوں میں بھی شبِ قدر اور جمعتہ الوداع کے مقدس مواقع پر مسلمانوں کو اجتماعی عبادات کی اجازت دی گئی لیکن جموں و کشمیر میں خصوصیت سے تاریخی اور مرکزی عبادت گاہ جامع مسجد سرینگر میں، مسلمانوں کے سب سے بڑے اجتماع کو جان بوجھ کر روکا گیا۔ یہ اقدام نہ صرف مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والا ہے بلکہ مذہبی آزادی میں کھلی مداخلت ہے ۔متحدہ مجلس علماء یہ بات مزید واضح کرنا چاہتی ہے کہ عید الفطر کے موقع پر جموں و کشمیر کے تمام خطیب، ائمہ اور علماء اپنے عید خطبات میں متفقہ طور پر مرکزی حکومت کی جانب سے مجوزہ وقف ترمیمی بل2025 کے خلاف آواز بلند کریں گے جسے پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہے ۔مجلس علماء اس بات کو دہراتی ہے کہ یہ بل ملتِ اسلامیہ کے مفادات کے خلاف ہے اور مسلمانوں کے مذہبی و اجتماعی اداروں کو کمزور کرنے کی کوشش ہے اور اس حوالے سے مجلس نے اپنے تحفظات اور خدشات پہلے ہی حکومت کی طرف سے بنائی گئی کمیٹی جے پی سی کو تحریری اور زبانی طور پر پیش کردیا ہے ۔عید الفطر کے اجتماعات میں مجلس علماء بیک آواز پارلیمنٹ اور حکومت سے مطالبہ کرے گی کہ اس بل کو ہرگز منظور نہ کیا جائے اور مسلمانوں کے دینی حقوق اور اداروں کا احترام کیا جائے ۔