پٹنہ کانفرنس میں ارشد مدنی کا آندھرا اور بہار حکومت کو سخت انتباہ
پٹنہ: بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں منعقدہ ’تحفظ آئین ہند و قومی یکجہتی کانفرنس‘ میں جمعیت علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے وقف ترمیمی بل کیخلاف شدید موقف اپنایا۔مولانا ارشد مدنی نے آندھرا پردیش اور بہار کی حکومتوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کی حکومتوں نے بل کی حمایت کی تو یہ مسلمانوں کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے کے مترادف ہوگا۔مولانا مدنی نے کہا کہ وقف اسلام کا ایک اہم جز ہے۔ وقف کا تصور قرآن و سنت سے ماخوذ ہے جس میں قیامت تک کوئی ترمیم نہیں ہو سکتی۔ مولانا مدنی نے وزیراعظم کے حالیہ بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آئین کی دفعہ 25 اور 26 اقلیتوں کو مذہبی آزادی فراہم کرتی ہیں اور وقف بھی انہی حقوق کا حصہ ہے۔ وقف ترمیمی بل مسلمانوں کے مذہبی حقوق پر حملہ ہے اور جمعیت علماء ہند اس کے خلاف ملک گیر تحریک چلائے گی۔ مولانا مدنی نے زور دیا کہ مسلمان ہر نقصان برداشت کر سکتے ہیں لیکن شریعت میں مداخلت قبول نہیں کریں گے۔مولانا مدنی نے کہا کہ ملک کا سیکولر آئین ہمارے اکابرین کی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی عوام کو نفرت کی سیاست کے خلاف متحد ہونا ہوگا۔کانفرنس کے دوران کئی تجاویز پیش کی گئیں جن میں بلڈوزر کارروائی اور وقف ترمیمی بل کے خلاف قانونی جدوجہد شامل تھی۔ جمعیت علماء اتر پردیش کے صدر مولانا سید اشہد رشیدی نے ملک کے حالات پر کہا کہ مشکلات ضرور ہیں لیکن مایوسی کی گنجائش نہیں۔