نئی دہلی، 24 جولائی (یواین آئی)راشٹر گورو اپمان نوارن (ترمیمی) بل 2026، جو وندے ماترم سے متعلق ہے ، جمعہ کو اپوزیشن کے شدید احتجاج اور ہنگامے کے درمیان راجیہ سبھا میں پیش کیا گیا، جس کے بعد ایوان کی کارروائی پورے دن کے لیے ملتوی کر دی گئی۔دو بار ملتوی کیے جانے کے بعد جب دوپہر دو بجے ایوان کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تو نائب چیئرمین ہری ونش نے مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے سے بل پیش کرنے کو کہا۔اس موقع پر مارکسی کمیونسٹ پارٹی (سی پی ایم) کے رکن جان برٹاس نے بل پیش کیے جانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ آئین کی دفعات کے مطابق نہیں ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی ترانے اور قومی نغمے کو یکساں آئینی حیثیت حاصل نہیں ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت معاشرے میں تقسیم پیدا کر رہی ہے اور اس طرح کے بل کے ذریعے قومیت اور حب الوطنی پیدا نہیں کی جا سکتی۔سی پی آئی کے رکن سنتوش کمار پی نے الزام لگایا کہ حکومت طلبہ کے احتجاج سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے ۔ i/y
انہوں نے کہا کہ وندے ماترم کو ہندوستانیوں کو متحد کرنا چاہیے ، نہ کہ تقسیم۔ ان کے مطابق رابندر ناتھ ٹیگور سمیت تمام مجاہدینِ آزادی بھی اس حقیقت سے واقف تھے ، اسی لیے وندے ماترم کو صرف ابتدائی دو بندوں تک محدود رکھا گیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ حکومت جان بوجھ کر بنکم چندر چٹوپادھیائے اور رابندر ناتھ ٹیگور کے درمیان اختلاف کا ماحول پیدا کرنا چاہتی ہے ۔جواب میں نتیا نند رائے نے اپوزیشن پر عوام کو گمراہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ بھارت کے پہلے صدر ڈاکٹر راجندر پرساد نے 24 جنوری 1950 کو خود کہا تھا کہ وندے ماترم کو بھی قومی ترانے کی طرح احترام دیا جائے گا۔اس کے بعد ایوان نے اپوزیشن کی مخالفت کو صوتی ووٹ سے مسترد کرتے ہوئے بل پیش کرنے کی منظوری دے دی، جس پر نتیا نند رائے نے بل ایوان میں پیش کر دیا۔تاہم اس دوران اپوزیشن ارکان مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے مسلسل ہنگامہ کرتے رہے ۔ ایوان میں بدستور ہنگامہ آرائی جاری رہنے پر نائب چیئرمین نے کارروائی پورے دن کے لیے ملتوی کر دی۔